عالمی اسٹاک مارکیٹس رواں ہفتے اپنی تاریخ کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ سرمایہ کاروں کا غیر معمولی رجحان اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں متوقع کمی کے اعلانات اس تیزی کی بنیادی وجہ ہیں۔
ایم ایس سی آئی آل کنٹری ورلڈ انڈیکس فروری کی اپنی بلند ترین سطح کے بالکل قریب ہے۔ یہ تیزی صرف ایک خطے تک محدود نہیں؛ نیویارک کا ایس اینڈ پی 500 ہو یا یورپ کا اسٹوکس 600 ، دونوں ہی نئے ریکارڈ قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ سرمایہ کار جغرافیائی سیاسی تناؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک نکتے پر مرکوز ہیں: مہنگی قرض لینے کی پالیسی اب اپنے اختتام کے قریب ہے۔
وال اسٹریٹ کی رفتار اس تیزی کا مرکزی انجن ہے۔ خاص طور پر مصنوعی ذہانت سے وابستہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی قدر انڈیکس کو مسلسل اوپر کی جانب دھکیل رہی ہے۔ تاہم، یہ تیزی اب صرف چند بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی۔ صنعتی اور مالیاتی شعبوں کی شمولیت سے مارکیٹ کی اندرونی صحت پہلے کی نسبت زیادہ مستحکم دکھائی دے رہی ہے۔
مرکزی کردار امریکی فیڈرل ریزرو کا ہے۔ مارکیٹ نے ستمبر میں شرح سود میں کمی کو تقریباً یقینی مان لیا ہے۔ فیڈ چیئر جیروم پاول کے حالیہ بیانات—جس میں انہوں نے مہنگائی کے 2 فیصد ہدف کی جانب آنے کا اعتراف کیا—نے سرمایہ کاروں کو ایکواٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا ہے۔
الپائن ایکویٹی گروپ کی سینئر اسٹریٹجسٹ سارہ ہنٹ کہتی ہیں، "مارکیٹ نے اب اس خوف کو ترک کر دیا ہے کہ کساد بازاری آئے گی، اب شرطیں ‘سافٹ لینڈنگ’ پر لگائی جا رہی ہیں جہاں شرح سود گرنے کے باوجود معاشی نمو برقرار رہے گی۔ یہ وہ مثالی صورتحال ہے جس کی ہر کوئی تلاش میں ہے۔”
البتہ، اس جوش و خروش کے ساتھ انتباہ بھی جڑا ہے۔ اسٹاکس کی قیمتیں اپنی تاریخی اوسط سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ ایس اینڈ پی 500 اس وقت اپنی مستقبل کی آمدنی کے مقابلے میں کافی مہنگا ٹریڈ ہو رہا ہے۔ اگر آئندہ سہ ماہی کی مالیاتی رپورٹس میں کوئی کوتاہی ہوئی یا مہنگائی کے اعداد و شمار میں غیر متوقع اضافہ ہوا، تو مارکیٹ میں تیزی سے گراوٹ کا خطرہ موجود ہے۔
یورپ میں صورتحال قدرے مختلف ہے۔ یورپی سینٹرل بینک پہلے ہی شرح سود میں کمی کا آغاز کر چکا ہے، لیکن یوروزون میں معاشی نمو تاحال سست ہے۔ وہاں کی تیزی خالص امید پرستی کے بجائے اس تلاش کا نتیجہ ہے کہ بانڈز پر منافع کم ہونے کے بعد سرمایہ کار بہتر متبادل ڈھونڈ رہے ہیں۔
جیسے جیسے مارکیٹیں نامعلوم بلندیوں کی جانب بڑھ رہی ہیں، سوال صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا اوپر جائیں گی، بلکہ یہ ہے کہ یہ تیزی حقیقی معاشی نمو پر مبنی ہے یا مرکزی بینکوں کے فیصلوں سے قبل کی قیاس آرائیاں۔ فی الحال، تیزی کا رجحان برقرار ہے، لیکن غلطی کی گنجائش دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔
