بلوچستان حکومت نے چاغی میں واقع سیندک کاپر اینڈ گولڈ منصوبے کے گرد سیکیورٹی حصار کو مزید سخت کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے منگل کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کی، جس کا مقصد چین کے اشتراک سے چلنے والی اس تنصیب کو صوبے میں حالیہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے محفوظ رکھنا ہے۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق، کان اور اس تک جانے والے سپلائی روٹس پر سیکیورٹی کے اضافی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ حکام نے نفری کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا، تاہم یہ واضح کیا کہ اب پورا علاقہ ایک نئی "سیکیورٹی چھتری” کے تحت ہے۔
سیندک منصوبہ، جسے میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنہ لیز پر چلا رہی ہے، صوبے کی معدنی پیداوار کا اہم مرکز ہے۔ حکومت کے لیے اس منصوبے کا تحفظ دو وجوہات کی بنا پر ناگزیر ہے: اول، آپریشنل تسلسل کو برقرار رکھنا اور دوم، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھنا جو طویل عرصے سے سیکیورٹی خدشات کا شکار ہیں۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں انفراسٹرکچر منصوبوں کے طویل اور ویران راستے عسکریت پسندوں کے لیے آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں۔ سیکیورٹی کی یہ نئی حکمت عملی محض ردعمل کے بجائے ایک پیشگی اقدام ہے، جس کے ذریعے ان کوریڈورز پر کنٹرول مضبوط کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، مقامی مزدور تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر سختیاں چاغی کے رہائشیوں کی نقل و حرکت محدود کر سکتی ہیں۔ مقامی لوگ، جن کا روزگار اس کان سے جڑا ہے، پریشان ہیں کہ چیک پوائنٹس اور محدود رسائی کے زون ان کی روزمرہ تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ نے پریس بریفنگ کے دوران ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقدامات کا مقصد صرف اور صرف دفاعی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت کی ترجیح افرادی قوت کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے منصوبے کی پیداوار کو بلاتعطل جاری رکھنا ہے۔
اگرچہ فی الحال کان سے پیداوار معمول کے مطابق جاری ہے، لیکن یہ فیصلہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچستان میں صنعتی منصوبوں کی سیکیورٹی طویل مدتی معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا سیکیورٹی کے یہ نئے انتظامات عسکریت پسندوں کے حملوں کو روکنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔
