میر رضا علی — مقامی حکام نے میر رضا علی کو نشانہ بنائے جانے والے مقام پر 24 گھنٹے کی پولیس چوکی قائم کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد جائے وقوعہ کو محفوظ بنانا اور جاری تفتیش کو تیز کرنا ہے۔
یہ فیصلہ مقامی رہائشیوں کے شدید دباؤ اور عوامی احتجاج کے بعد کیا گیا، جنہوں نے واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی مستقل موجودگی کا مطالبہ کیا تھا۔ اب اہلکار چوبیس گھنٹے وہاں موجود ہیں، جو نہ صرف علاقے کی نگرانی کر رہے ہیں بلکہ وہاں سے گزرنے والوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ یہ چوکی اس لیے قائم کی گئی ہے تاکہ شواہد محفوظ رہیں اور جب ہماری ٹیمیں فرانزک تفصیلات پر کام کر رہی ہوں تو عوام خود کو محفوظ محسوس کریں۔”
مقامی آبادی کے لیے یہ اقدام ضروری تو ہے، لیکن اسے دیر سے اٹھایا گیا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ رہائشیوں نے گزشتہ کئی روز سے یہ سوال اٹھا رکھا تھا کہ حملے کے فوراً بعد جائے وقوعہ کو اتنی سختی سے کیوں نہیں گھیرا گیا تھا۔ اب پولیس کی موجودگی—جو پہلے تنازع کا باعث تھی—محکمہ کی کارکردگی کا پیمانہ بن چکی ہے۔
تفتیشی ٹیمیں قریبی کاروباری مراکز سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہیں، جس سے حملہ آوروں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کی امید ہے۔ اگرچہ اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی، تاہم سراغ رساں عینی شاہدین کے بیانات کا موازنہ جائے وقوعہ سے ملنے والے ڈیجیٹل شواہد سے کر رہے ہیں۔
حکمت عملی میں یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ پولیس پر نتائج دینے کے لیے شدید دباؤ ہے۔ تفتیش کار اب فرانزک جانچ کی ضرورت اور کیس میں جلد پیش رفت کے عوامی مطالبے کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کیا 24 گھنٹے کی یہ نگرانی کسی ملزم تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوگی؟ یہ وہ مرکزی سوال ہے جس کا جواب اس علاقے کے لوگ ڈھونڈ رہے ہیں۔ فی الحال، وہاں پولیس کی ناکہ بندی برقرار ہے، لائٹس جل رہی ہیں، اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔
