کراچی: میر رضا علی کی لاش کو سب سے پہلے قریب سے دیکھنے والے ایدھی رضاکاروں نے جائے وقوعہ اور لاش کی حالت سے متعلق اہم تفصیلات بیان کردی ہیں۔
رضاکاروں نے بتایا کہ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں پولیس کی گاڑیاں پہلے سے موجود تھیں۔
رضاکاروں کے مطابق جائے وقوعہ پر بڑی تعداد میں گملے اور جھاڑیاں موجود تھیں۔ پولیس کی مدد سے انہوں نے گملے ہٹائے اور جھاڑیاں صاف کرکے لاش تک رسائی حاصل کی۔
انہوں نے بتایا کہ لاش کو سیدھا کرتے ہوئے انہیں معلوم ہوا کہ مقتول کے جسم پر بظاہر گولی کا زخم بھی موجود تھا۔ رضاکاروں کے مطابق انہوں نے مقتول کی قمیض اٹھائی تو جسم پر ایک چھوٹا گول زخم نظر آیا، جس سے خون بھی رس رہا تھا۔
رضاکاروں نے مزید بتایا کہ لاش پر ایک چکنا مادہ بھی موجود تھا، جس کے باعث انہیں شبہ ہوا کہ ممکنہ طور پر کوئی کیمیائی مادہ جسم پر ڈالا گیا ہو۔ تاہم مادے کی اصل نوعیت فرانزک معائنے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی۔
رضاکاروں کے مطابق بعد میں پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور انہیں لاش گاڑی میں منتقل کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے بتایا کہ حکام نے مقتول کے ہاتھوں کے فنگر پرنٹس حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم دونوں ہاتھوں سے واضح فنگر پرنٹس حاصل نہیں ہوسکے۔ رضاکاروں نے ہاتھ صاف کرنے کی متعدد کوششیں کیں، لیکن جلد شدید متاثر دکھائی دے رہی تھی۔
میر رضا علی کی موت کی وجوہات اور واقعے کے حالات جاننے کے لیے تحقیقات اور فرانزک عمل جاری ہے۔
