وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مجوزہ سہ فریقی دفاعی معاہدے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کا مرکزی نقطہ پاکستان کی دفاعی ضروریات کو روایتی ذرائع سے ہٹا کر ایک نئی سمت دینا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد ترکی کی جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے مالی وسائل کو بروئے کار لا کر پاکستان میں دفاعی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔
یہ مجوزہ معاہدہ محض ہتھیاروں کی خریداری تک محدود نہیں۔ اس کا بنیادی مقصد مشترکہ پیداواری یونٹس کا قیام ہے، تاکہ دفاعی بجٹ پر پڑنے والے غیر ملکی زرمبادلہ کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
معاملات سے واقف ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ "ہم ایک ایسے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جو خریدار اور فروخت کنندہ کے روایتی تعلق سے آگے نکل جائے۔ ہدف ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ آپریشنل صلاحیتوں کا حصول ہے۔”
ایوانِ صدر کے ذرائع کے مطابق، صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کو پارلیمانی نگرانی میں رکھا جائے تاکہ یہ قومی سلامتی کے طویل مدتی مفادات سے ہم آہنگ رہے۔ انہوں نے اس اقدام کی حمایت کا اشارہ دیا، بشرطیکہ اس سے ملکی دفاعی صنعت مستحکم ہو، نہ کہ قرضوں کا بوجھ بڑھے۔
اس بریفنگ کا وقت نہایت اہم ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت پاکستان کی مالی گنجائش محدود ہے، جس کے باعث امیر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ پیداوار کا منصوبہ حکومت کے لیے ایک پرکشش متبادل ہے۔
اگرچہ معاہدے میں شامل مخصوص آلات یا مالیاتی تفصیلات تاحال خفیہ رکھی گئی ہیں، لیکن اس سہ فریقی اتحاد کا قیام پاکستان کی علاقائی سیکیورٹی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ کامیاب رہا تو پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ایک کلیدی کردار کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
وزیراعظم رواں ہفتے کے آخر میں کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے سامنے اس معاہدے کا باقاعدہ روڈ میپ پیش کریں گے تاکہ تکنیکی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
