ساؤ پاؤلو میں پولیس نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران فرانسیسی مصور ہنری میٹیس کے 8 نایاب خاکے برآمد کر لیے ہیں۔ یہ فن پارے تین سال قبل برازیل کے ایک نجی کتب خانے سے چوری ہوئے تھے، جس کے بعد سے ان کی تلاش جاری تھی۔
تفتیشی حکام کے مطابق، یہ خاکے ساؤ پاؤلو کے پوش علاقے ‘جارڈن’ سے غائب ہوئے تھے۔ پولیس نے ایک مقامی بروکر کو بلیک مارکیٹ میں ان فن پاروں کو بیچنے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا، جس کے بعد نیٹ ورک کا سراغ ملا۔ گرفتاریوں کے بعد ملزمان نے ان خاکوں کو چھپانے کی جگہ ظاہر کی، جہاں یہ فن پارے انتہائی غیر محفوظ حالت میں رکھے گئے تھے۔
آرٹ کے ماہرین کے لیے یہ بازیابی کسی بڑی کامیابی سے کم نہیں۔ یہ خاکے میٹیس کے تخلیقی سفر کا اہم حصہ ہیں، جن میں ان کی وہی مخصوص لکیریں اور انداز جھلکتا ہے جو بعد میں ان کے مشہور ‘کٹ آؤٹ’ فن کا مرکز بنا۔ اگر ان خاکوں کو مزید کچھ عرصہ اسی طرح رکھا جاتا تو نمی اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث انہیں ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔
پولیس نے اس واقعے میں ملوث تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ تاہم، تفتیش کاروں کے ذہن میں اب بھی یہ سوال موجود ہے کہ 2021 میں اتنی آسانی سے سیکیورٹی حصار کو کیسے توڑا گیا۔ حکام کو شبہ ہے کہ یہ چوری محض ایک چھوٹی کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ برازیل میں فعال آرٹ سمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔
برآمد کیے گئے فن پاروں کو فی الحال ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ماہرین ان کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ طویل عرصے تک غیر محفوظ ماحول میں رہنے سے ان پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ فرانزک رپورٹ مکمل ہونے کے بعد یہ خاکے ان کے اصل مالکان کے حوالے کر دیے جائیں گے۔
اس برآمدگی نے آرٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ لاطینی امریکہ میں قیمتی فن پاروں کی چوری کے بعد اکثر وہ نجی کلیکشنز میں گم ہو جاتے ہیں جہاں سے ان کی واپسی ناممکن ہو جاتی ہے۔ میٹیس کے ان شاہکاروں کی بازیابی نے اس رجحان کو فی الحال روک دیا ہے۔
