ڈیوڈ ہرن کی قانونی ٹیم نے منگل کے روز وفاقی عدالت میں ایک نئی درخواست دائر کی ہے، جس میں اپنے مؤکل پر ‘ریفلیکٹنگ پول’ چارجز عائد کرنے کے عمل کو مستقل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس طویل قانونی جنگ میں ایک اہم موڑ ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔
ہرن کے وکلاء کا موقف ہے کہ یہ چارجز مبہم ہیں اور ان کا کوئی ٹھوس معاہداتی جواز موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ ہرن پر ڈالا جانے والا یہ مالی بوجھ محض ایک انتظامی غلطی نہیں، بلکہ ایک منظم زیادتی ہے جس کے خلاف عدالت کا مداخلت کرنا ضروری ہے۔
لیڈ کونسل مارکس تھورن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم صرف موجودہ بل کے تصفیے کی بات نہیں کر رہے، ہم عدالت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طریقہ کار کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ یہ ہمارے مؤکل کے کاروباری معاملات پر ایک من مانا ٹیکس ہے، جس کی شفاف قانونی فریم ورک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔”
دفاعی ٹیم کا اصرار ہے کہ معاہدے کے ابتدائی مراحل میں ‘ریفلیکٹنگ پول’ فیس کے بارے میں کبھی مکمل انکشاف نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق، فریق مخالف کی اندرونی خط و کتابت میں بھی 2022 سے ان چارجز کی ابہام کا اعتراف موجود ہے۔
اب سارا انحصار جج سارہ جینکنز کے فیصلے پر ہے۔ اگر عدالت یہ حکم جاری کرتی ہے تو فریق مخالف کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بند ہو سکتا ہے، جس سے انہیں اپنے بلنگ کے پورے ماڈل کو تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
فریق مخالف کو جمعہ تک اپنا باضابطہ جواب جمع کروانے کی مہلت دی گئی ہے۔
صنعتی ماہرین اس کیس کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ڈیوڈ ہرن یہ مقدمہ جیت جاتے ہیں، تو یہ ایک ایسی مثال بن جائے گی جو دیگر کمپنیوں کو بھی اپنے مبہم اور چھپے ہوئے چارجز ختم کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
فی الحال، عدالت کا حتمی فیصلہ آنے تک ڈیوڈ ہرن پر موجودہ چارجز کی ادائیگی کی ذمہ داری برقرار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عدالت مستقبل میں ان چارجز کو روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری کرتی ہے یا صرف پرانے بلوں کی واپسی تک محدود رہتی ہے۔
