کینیڈا میں امریکی سفیر ڈیوڈ کوہن کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کرنے والی ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ تعداد کینیڈا کی تاریخ میں کسی سفارتی شخصیت کے خلاف عوامی ناراضگی کا ایک غیر معمولی اظہار ہے۔
کینیڈا کی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود یہ پٹیشن امریکی سفیر پر کینیڈا کے داخلی معاملات میں "مداخلت” کا الزام عائد کرتی ہے۔ اگرچہ اس مہم کے پیچھے کوئی ایک خاص واقعہ کارفرما نہیں، لیکن یہ عوامی ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا میں غیر ملکی اثر و رسوخ کے حوالے سے سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔
اس مہم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ سفیر کا کام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو استوار کرنا ہے، نہ کہ کینیڈا کی داخلی سیاست، تجارتی پالیسیوں یا قومی سلامتی کے معاملات پر لیکچر دینا۔ ناقدین کے مطابق ڈیوڈ کوہن نے سفارتی حدود سے تجاوز کیا ہے، جس سے عوام میں غم و غصہ بڑھا۔
اس پٹیشن کے بعد اب جسٹن ٹروڈو کی حکومت قانونی طور پر پابند ہے کہ وہ اس کا باضابطہ تحریری جواب دے۔ یہ صورتحال حکومتی حلقوں کے لیے ایک کٹھن امتحان ہے۔ ایک طرف روایتی سفارتی تعلقات کا دباؤ ہے، تو دوسری طرف ایک بڑی عوامی تعداد کا مطالبہ، جسے نظر انداز کرنا حکومت کے لیے سیاسی طور پر مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
اوٹاوا میں امریکی سفارت خانے نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم، سفارتی مبصرین کا ماننا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے تعینات کیے گئے ڈیوڈ کوہن کا میڈیا میں فعال کردار اور کھل کر رائے دینے کا انداز کینیڈا کے کچھ حلقوں کے لیے ناگوار گزر رہا ہے۔
سفارتی تاریخ میں صرف عوامی دباؤ پر کسی سفیر کی بے دخلی کا امکان کم ہی ہوتا ہے۔ تاہم، اتنی بڑی تعداد میں دستخطوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کینیڈین عوام اب "خاموش سفارت کاری” کے پرانے اصولوں سے مطمئن نہیں۔ یہ پٹیشن ایک انتباہ ہے کہ کینیڈا کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت اب عوامی جانچ پڑتال سے بچ نہیں سکے گی۔
