ہوائی کے جزائر منگل کی صبح سمندری طوفان ’لالا‘ کی زد میں آ گئے، جس نے شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کے ساتھ بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ طوفان کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں، جبکہ ہنگامی امدادی ٹیمیں پھنسے ہوئے شہریوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
نیشنل ویدر سروس نے بگ آئی لینڈ اور ماوئی کے کچھ حصوں کے لیے ہنگامی سیلابی وارننگ جاری کر دی ہے۔ کچھ علاقوں میں بارش کی شرح چھ انچ فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے نکاسی آب کے نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا ہے اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔
ہائلو کے رہائشی کیمو کالانی نے اپنے گھر سے انخلا کے وقت بتایا، "پانی چند منٹوں میں کمروں کے اندر آ گیا۔ ہم نے پہلے بھی طوفان دیکھے ہیں، لیکن اتنی تیزی اور شدت کے ساتھ پانی کا بہاؤ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔”
گورنر جوش گرین نے صبح سویرے ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا ہے اور نیشنل گارڈ کو امدادی کارروائیوں کے لیے طلب کر لیا ہے۔ گورنر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہماری اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔ اگر آپ سیلاب سے متاثرہ علاقے میں ہیں، تو حکومتی احکامات کا انتظار کیے بغیر فوراً محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔”
طوفان کی غیر متوقع سمت نے ماہرینِ موسمیات کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ تیز ہواؤں کے باعث بجلی کے کھمبے گرنے سے تقریباً 80 ہزار صارفین اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔ مرمتی ٹیمیں طوفان کے زور میں کمی کے منتظر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بجلی کی بحالی میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔
ہوائی کی معیشت پر بھی طوفان کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ہونولولو اور کونا کے ہوائی اڈوں پر پروازیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہیں، جس سے سیاحوں کی بڑی تعداد پھنس کر رہ گئی ہے اور جزائر کی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔
اگرچہ ہوائی میں سمندری طوفان کوئی نئی بات نہیں، لیکن ’لالا‘ کی شدت نے مقامی وسائل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ طوفان کے شمال کی جانب بڑھنے کی توقع ہے، تاہم بارشوں کا سلسلہ طویل ہو سکتا ہے، جس سے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔
فی الحال پورا جزیرہ ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ رہائشی گھروں کے اندر محصور ہو کر بارش تھمنے کا انتظار کر رہے ہیں، تاکہ پانی اترنے کے بعد نقصانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
