اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل میں قید اپنے بانی عمران خان کے تجویز کردہ کارڈیک ٹیسٹ میں تاخیر پر حکام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی قیادت کا دعویٰ ہے کہ طبی بورڈ کی جانب سے دل کے خصوصی معائنے کی سفارش کے باوجود جیل انتظامیہ مسلسل ٹال مٹول کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میڈیکل بورڈ نے ہفتوں قبل ان ٹیسٹس کی سفارش کی تھی، لیکن جیل حکام معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ یہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے ساتھ ایک خطرناک کھیل ہے۔”
دوسری جانب جیل حکام کا موقف ہے کہ قیدیوں کے طبی معاملات میں تمام قواعد و ضوابط پر عمل کیا جا رہا ہے۔ پنجاب جیل خانہ جات کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت تسلی بخش ہے اور انہیں جیل کے اندر ہی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم، حکام نے مخصوص طبی رپورٹس یا ٹیسٹ میں تاخیر کی وجوہات پر کوئی واضح جواب نہیں دیا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، پاکستان کے جیل قوانین کے تحت ہر قیدی کو اپنی بیماری کی صورت میں ماہر ڈاکٹروں سے معائنے کا حق حاصل ہے۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ طبی ضرورت کے باوجود علاج سے روکا جا رہا ہے، تو عدالت اس معاملے میں مداخلت کر کے کسی آزاد میڈیکل بورڈ یا نجی ہسپتال سے معائنے کا حکم دے سکتی ہے۔
عمران خان کی عمر 71 برس ہے، اور ان کی صحت کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے خدشات کا اظہار معمول بن چکا ہے۔ پی ٹی آئی نے اب اس معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ عدالت سے درخواست کریں گے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان کی مرضی کے کسی نجی ہسپتال سے کارڈیک اسکریننگ کروانے کی اجازت دی جائے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس درخواست پر کیا فیصلہ سناتی ہے اور آیا جیل انتظامیہ ان طبی ٹیسٹوں کے لیے کوئی حتمی تاریخ دیتی ہے یا نہیں۔ فی الحال، حکومتی حلقوں کی خاموشی اور پی ٹی آئی کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے اس معاملے کو ایک نئے سیاسی تنازع میں بدل دیا ہے۔
