شہر کے تاریخی شاہ بلوط کے گرد آج سے حفاظتی باڑ لگانے اور زمین کو نرم کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام برسوں پہلے اٹھایا جانا چاہیے تھا، ورنہ یہ درخت اپنی عمر پوری کرنے سے پہلے ہی دم توڑ سکتا تھا۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاحوں اور مقامی لوگوں کی مسلسل آمدورفت نے درخت کی جڑوں کے گرد مٹی کو پتھر کی طرح سخت کر دیا ہے۔ اس دباؤ نے جڑوں تک ہوا اور پانی پہنچنے کا راستہ بند کر دیا ہے۔ اگر یہ عمل نہ روکا جاتا تو اٹھارویں صدی سے قائم یہ درخت اگلے دس برسوں میں ختم ہو سکتا تھا۔
تحفظ کے اس منصوبے میں "ایئر سپیڈنگ” کی تکنیک استعمال کی جا رہی ہے۔ اس میں ہائی پریشر ہوا کے ذریعے مٹی کو جڑوں کو نقصان پہنچائے بغیر نرم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جڑوں کو خوراک فراہم کرنے کے لیے وہاں نامیاتی کھاد اور ملچ ڈالی جائے گی۔
منصوبے کے سربراہ اور ماہر نباتات مارک ہیجز نے کہا کہ "ہم یہ باڑ صرف دکھاوے کے لیے نہیں لگا رہے۔ یہ ایک حیاتیاتی تحفظ کا حصار ہے۔ اگر لوگ جڑوں کے اوپر چلنا بند نہیں کریں گے، تو درخت پانی اور غذائیت حاصل نہیں کر پائے گا۔”
اس منصوبے پر 45 ہزار ڈالر لاگت آئے گی، جس کا زیادہ تر حصہ ریاستی گرانٹ سے ادا کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ موسمِ خزاں میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد کیا گیا، جب طوفان کے دوران درخت کی ایک بھاری شاخ ٹوٹ کر گر گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ہونے والے معائنے سے پتہ چلا کہ غذائی قلت کے باعث درخت اپنا وزن سنبھالنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔
مقامی شہریوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لوہے کی باڑ پارک کے حسن کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ دیگر کے نزدیک ایک زندہ تاریخ کو بچانے کے لیے یہ ایک معمولی قیمت ہے۔
یہ کام جمعہ تک مکمل ہو جائے گا۔ فی الحال بھاری مشینری ہٹا لی گئی ہے اور قدیم درخت اپنی نئی حفاظتی باڑ کے پیچھے کھڑا ہے۔ یہ اس طویل بحالی کے عمل کا ایک خاموش آغاز ہے جس کی کامیابی کا انحصار اب مکمل طور پر انسانی مداخلت کو روکنے پر ہے۔
