ملرز پونڈ کے کنارے اب پانی نہیں، بلکہ خشک اور پھٹی ہوئی زمین دکھائی دیتی ہے۔ پانی کی سطح اپنے معمول سے تقریباً 30 فٹ پیچھے ہٹ چکی ہے، جس سے وہ تالاب جو کبھی مچھلیوں اور آبی حیات کا مسکن تھا، اب ایک بنجر گڑھے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ جِم ہیلوے، جو 2007 سے یہاں رہائش پذیر ہیں، اس منظر کو محض موسمی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سنگین بحران قرار دیتے ہیں۔
"میں نے گزشتہ 17 برسوں میں تالاب کی سطح اتنی نیچے کبھی نہیں دیکھی،” جِم نے خشک زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "پانی کے کنارے تک پہنچنے سے پہلے عام طور پر دس فٹ کا فاصلہ ہوتا تھا، اب وہاں صرف دھول اڑ رہی ہے۔”
یہ صورتحال صرف ایک تالاب تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ موسم بہار کے آغاز سے اب تک علاقے میں متوقع بارشوں کا صرف 40 فیصد ہی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بارش کی کمی نے مقامی کسانوں کو ہنگامی بنیادوں پر زیرِ زمین پانی نکالنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے پہلے سے کم ہوتے ہوئے واٹر ٹیبل پر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
مقامی انتظامیہ اب سخت اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ آبپاشی بورڈ نے بدھ کو ایک ہنگامی اجلاس بلایا جس میں پیر سے پانی کے غیر ضروری استعمال پر مکمل پابندی لگانے پر بات چیت کی گئی۔ اگر خشک سالی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو گھروں کے لان اور تجارتی مقاصد کے لیے پانی کا استعمال کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح کم ہونے سے آکسیجن کی مقدار تیزی سے گر رہی ہے، جس کے باعث مچھلیوں کی بڑی تعداد ہلاک ہو رہی ہے۔ اگر اگلے دو ہفتوں کے دوران کوئی طاقتور موسمی سسٹم اس علاقے سے نہ گزرا، تو اس آبی نظام کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
جِم ہیلوے کے لیے روزانہ کی صبح اب ایک تکلیف دہ مشق بن چکی ہے۔ وہ ہر روز گہرائی ناپنے والے میٹر کو دیکھتے ہیں، جو تیزی سے خشک ہوتے تالاب کی تلخ حقیقت بیان کر رہا ہے۔
"بارش کے بادل وادی کے اوپر سے گزر جاتے ہیں اور برستے نہیں،” جِم نے مایوسی سے کہا۔ "ایسا لگتا ہے جیسے قدرت نے اس ٹکڑے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔”
