سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر انہیں فوری طور پر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حکومت کی جانب سے جیل کے اندر ہی علاج کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ عدالت کا موقف تھا کہ قیدی کی صحت کا حق ایک بنیادی آئینی ضرورت ہے، جس پر سیکیورٹی یا بیوروکریسی کے بہانے سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیصلہ عمران خان کی قانونی ٹیم کی جانب سے دائر درخواستوں کے بعد سامنے آیا۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ 71 سالہ سابق وزیراعظم کو تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں اپنے ذاتی معالجین تک رسائی نہیں دی جا رہی، جس سے ان کی جسمانی حالت متاثر ہو رہی ہے۔ سرکاری وکلاء نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دے کر منتقلی کی مخالفت کی تھی، تاہم عدالت نے ان دلائل کو مسترد کر دیا۔
عدالت نے ہدایت کی ہے کہ جیل انتظامیہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ساتھ مل کر عمران خان کا مکمل طبی معائنہ یقینی بنائے۔ عدالتی حکم کے مطابق، معائنے کے 48 گھنٹوں کے اندر میڈیکل رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کروانا لازمی ہوگا۔
اگست 2023 سے قید کاٹنے والے عمران خان کو اس وقت متعدد قانونی مقدمات کا سامنا ہے۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور مقصد انہیں ملکی سیاست سے دور رکھنا ہے۔ عدالتی حکم کے بعد اب حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ منتقلی کے عمل کو شفاف بنائے۔ اگر اس دوران صحت یا سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی غفلت برتی گئی تو اس کے سیاسی نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
فی الحال، سابق وزیراعظم سخت سیکیورٹی حصار میں رہیں گے، لیکن اب وہ جیل کی چار دیواری کے بجائے طبی نگرانی میں ہوں گے۔
