کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں منگل کے روز پسند کی شادی کرنے والے جوڑے پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں 22 سالہ خاتون موقع پر ہی دم توڑ گئی جبکہ ان کا شوہر شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ صائمہ اور ان کے شوہر آصف موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے انہیں روکا اور اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ آصف کو شدید زخمی حالت میں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں کئی گولیاں لگی ہیں اور ان کی حالت تاحال خطرے میں ہے۔
خاندان کے قریبی ذرائع اور پولیس کے ابتدائی بیانات کے مطابق، یہ واقعہ ’غیرت‘ کے نام پر قتل کا شاخسانہ لگتا ہے۔ جوڑے نے چند ماہ قبل اپنی مرضی سے شادی کی تھی، جس کے بعد سے لڑکی کے اہل خانہ کی جانب سے انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔ پولیس نے مقتولہ کے ورثا کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
علاقے کے ایس ایس پی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابتدائی شواہد اور اہل خانہ کے بیانات اس واقعے کو پسند کی شادی کے تنازع سے جوڑتے ہیں۔” تفتیشی ٹیمیں جائے وقوعہ کے قریب لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر رہی ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور فرار کا راستہ متعین کیا جا سکے۔
یہ واقعہ کراچی میں بڑھتے ہوئے گھریلو تشدد اور نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں ایک اور افسوسناک اضافہ ہے۔ پاکستان میں اس قبیح فعل کے خلاف سخت قوانین موجود ہونے کے باوجود، فرسودہ سماجی روایات اور قانونی عمل میں تاخیر کے باعث ایسے واقعات تھم نہیں رہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق، آصف کی حالت نازک ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ پولیس نے ہسپتال کے باہر سیکیورٹی سخت کر دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جا سکے۔
