خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کو تبدیل کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے، جو صوبے کی سکیورٹی قیادت میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے باخبر ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد کیا گیا ہے۔
پولیس کمانڈ میں تبدیلی کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبہ سکیورٹی کے پیچیدہ چیلنجز، عسکریت پسندی کے دوبارہ ابھرتے ہوئے خطرات اور سرحدوں کی نگرانی کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ آئی جی پی کی تعیناتی چونکہ صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان ایک مشترکہ عمل ہے، اس لیے صوبائی حکام نے نئے ناموں کے لیے وفاقی حکومت سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔
موجودہ پولیس قیادت کو گزشتہ کچھ عرصے سے تنقید کا سامنا تھا، تاہم یہ تبدیلی ایک ایسے نازک وقت میں ہو رہی ہے جب صوبے کو سکیورٹی کے محاذ پر شدید مشکلات درپیش ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس چیف کی تبدیلی کو اکثر سیاسی حلقوں میں غیر مستحکم حالات کے دوران تنقید سے بچنے کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس طرح کے انتظامی فیصلوں کے زمینی حقائق پر اثرات ہمیشہ بحث طلب رہے ہیں۔
صوبائی حکومت مبینہ طور پر ایسے افسر کی تلاش میں ہے جو قبائلی اضلاع کے منفرد سکیورٹی چیلنجز کو سمجھ سکے اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی قائم رکھ سکے۔ نئے تعینات ہونے والے آئی جی پی کو ایک ایسی فورس ملے گی جو محدود وسائل کے باوجود مشکل جغرافیائی حالات میں متحرک عسکریت پسندوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے لیے یہ اقدام صوبائی سکیورٹی کے بیانیے پر دوبارہ گرفت مضبوط کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم، اس تبدیلی کی کامیابی کا انحصار محض ایک فرد کی تعیناتی پر نہیں، بلکہ پولیس فورس کو درکار جدید وسائل کی فراہمی اور ان سکیورٹی خلا کو پُر کرنے پر ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے صوبے کے امن کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی حتمی منظوری کے بعد نئے آئی جی پی کے نام کا اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
