امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے طویل عرصے سے زیرِ التوا کرپٹو ریگولیشنز کے مسودے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کی تجارت کرنے والے پلیٹ فارمز کو وفاقی نگرانی کے دائرہ کار میں لانا ہے، جس سے کرپٹو انڈسٹری میں ایک نئی ہلچل مچ گئی ہے۔
نئے ضوابط کے تحت، ایس ای سی نے ‘ایکسچینج’ کی تعریف کو وسیع کر دیا ہے۔ اب ایسے تمام پلیٹ فارمز — بشمول ڈی سینٹرلائزڈ فنانس — جو خریداروں اور فروخت کنندگان کو ایک جگہ اکٹھا کرتے ہیں، انہیں خود کو ریگولیٹرز کے پاس رجسٹر کروانا ہوگا۔ یہ فیصلہ ان کمپنیوں کے لیے بڑا دھچکا ہے جو اب تک خود کو روایتی مالیاتی قوانین سے مستثنیٰ قرار دیتی تھیں۔
ایس ای سی کے چیئرمین گیری گینسلر کا موقف ہے کہ یہ اقدام سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپٹو مارکیٹس کو بھی اسی طرح کے شفافیت کے معیارات پر پورا اترنا چاہیے جیسے نیویارک اسٹاک ایکسچینج پر لاگو ہوتے ہیں۔ تاہم، انڈسٹری کے ماہرین اسے جدت پسندی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے رہے ہیں۔
کئی کرپٹو فرمز کا دعویٰ ہے کہ ایس ای سی پرانی مالیاتی پالیسیوں کو جدید ٹیکنالوجی پر زبردستی لاگو کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ریگولیٹری تقاضے اتنے سخت ہیں کہ چھوٹے پروجیکٹس کے لیے قانونی حیثیت برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے امریکی مارکیٹ میں کرپٹو کاروبار کا دائرہ کار سکڑ سکتا ہے۔
اس نئی پیش رفت کا مطلب یہ ہے کہ اب پلیٹ فارمز کو اپنے اندرونی آڈٹ کروانے، سرمائے کے مخصوص ذخائر رکھنے اور ان ٹوکنز کو ہٹانے پر مجبور کیا جا سکے گا جنہیں ایس ای سی ‘غیر رجسٹرڈ سیکیورٹیز’ قرار دیتا ہے۔ یہ عمل کرپٹو فرمز کے لیے مہنگا بھی ہوگا اور وقت طلب بھی۔
عام سرمایہ کاروں کے لیے اس کے اثرات ملے جلے ہیں۔ ایک طرف ریگولیشن سے ایف ٹی ایکس جیسے بڑے مالیاتی بحرانوں کا خطرہ کم ہو سکتا ہے، تو دوسری طرف امریکی مارکیٹ سے لیکویڈیٹی کے اخراج کا خدشہ بھی موجود ہے۔
اب یہ معاملہ قانونی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں کا خیال ہے کہ یہ ضوابط حتمی طور پر عدالتوں میں چیلنج کیے جائیں گے۔ ایس ای سی اپنی جگہ پر قائم ہے کہ کرپٹو کی ‘بے لگام’ دنیا کا دور ختم ہو چکا ہے، لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کیا یہ نئی پابندیاں انوویشن کو کچل دیں گی یا واقعی مارکیٹ کو محفوظ بنائیں گی۔
