ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بائیڈن انتظامیہ کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس کا مقصد بحر الکاہل میں سمندری فرش پر کان کنی کے حقوق کی پہلی نیلامی کو روکنا ہے۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ حکومت نے سمندری حیات پر مرتب ہونے والے طویل مدتی اثرات کا درست جائزہ نہیں لیا۔
مقدمے کا محور بیورو آف اوشن انرجی مینجمنٹ کا وہ حالیہ اقدام ہے جس کے تحت ہوائی اور میکسیکو کے درمیان واقع ‘کلیرین-کلپرٹن زون’ میں لیز کے حقوق نیلام کیے جا رہے ہیں۔ کان کنی کرنے والی کمپنیاں برسوں سے اس علاقے تک رسائی کی کوشش میں ہیں، کیونکہ یہاں کوبالٹ، نکل اور مینگنیز سے بھرپور معدنی نوڈولز وافر مقدار میں موجود ہیں۔ یہ دھاتیں الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کی تیاری میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
تاہم، ‘سینٹر فار بائیولوجیکل ڈائیورسٹی’ اور ‘ارتھ جسٹس’ جیسی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی ماحولیاتی قیمت بہت زیادہ ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ سمندری فرش کو کھودنے کے لیے استعمال ہونے والی بھاری مشینری بڑے پیمانے پر تلچھٹ کو اڑا دے گی، جو ہزاروں سال سے موجود نازک سمندری حیات کا گلا گھونٹ سکتی ہے۔
کیس کی پیروی کرنے والے ایک وکیل نے کہا کہ وفاقی حکومت سمندر کی تہہ میں موجود حقائق جانے بغیر اسے نیلام کرنے میں عجلت کر رہی ہے۔ ان کے بقول، "آپ سپلائی چین کی سہولت کے لیے سمندر کی صحت کو داؤ پر نہیں لگا سکتے۔”
دوسری جانب، امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان معدنیات تک مقامی رسائی قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ حکام کے مطابق، چین پر انحصار کم کرنا اسٹریٹجک ضرورت ہے تاکہ گرین انرجی کی عالمی منتقلی میں رکاوٹ نہ آئے۔ وائٹ ہاؤس کا ماننا ہے کہ سمندری وسائل کا حصول مستقبل کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
سائنسی حلقے اس معاملے پر منقسم ہیں۔ جہاں کچھ ماہرین بیٹری میٹلز کی قلت کو تسلیم کرتے ہیں، وہیں سمندری حیاتیات کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ سمندری تہہ کے ایکو سسٹم انتہائی سست روی سے نشوونما پاتے ہیں۔ ایک بار ہونے والی تباہی کی تلافی میں صدیوں لگ سکتے ہیں۔
اب یہ معاملہ ایک وفاقی جج کے پاس ہے، جنہیں قومی سلامتی کے تقاضوں اور ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ اگر عدالت نے درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیا تو یہ نیلامی غیر معینہ مدت کے لیے رک جائے گی، جس سے حکومت کو دوبارہ طویل ماحولیاتی جائزے کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔
فی الحال سمندر کی تہہ خاموش ہے، مگر زمین کے اس آخری محاذ پر قانونی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔
