ایپل اپنی اگلی ہارڈویئر ریلیز کے ساتھ اسمارٹ ہوم ٹیکنالوجی میں ایک بڑی تبدیلی لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ کمپنی آئی فون 18 کی رونمائی کے موقع پر اپنے نئے اسمارٹ ہوم ڈیوائسز متعارف کرائے گی، جس کا مقصد ایمیزون ایکو اور گوگل نیسٹ جیسی حریف کمپنیوں کی اجارہ داری کو چیلنج کرنا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ایپل دو اہم ڈیوائسز پر کام کر رہا ہے۔ ایک دیوار پر نصب ہونے والا ‘کمانڈ سینٹر’ ہے جو گھر کے تمام آلات کو کنٹرول کرے گا، اور دوسری ایک جدید سیکیورٹی ہب ہے جو مصنوعی ذہانت سے لیس ہوگی۔ یہ دونوں ڈیوائسز ایپل کی اگلی نسل کی A-سیریز چپس پر کام کریں گی، جو آئی فون 18 کا بھی حصہ ہوں گی۔
ایپل کے لیے یہ اقدام کیوں اہم ہے؟ کمپنی کے پاس پہلے سے ہوم پوڈ اور ایپل ٹی وی موجود ہیں، لیکن اسمارٹ ہوم کے شعبے میں اسے وہ مارکیٹ شیئر نہیں مل سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ آئی فون کے ساتھ ان ڈیوائسز کو متعارف کروانے کا مقصد کروڑوں آئی فون صارفین کو اپنے "ایکو سسٹم” میں مزید مضبوطی سے جکڑنا ہے۔
ایک تکنیکی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ "ایپل اب صرف اسپیکر یا اسکرین نہیں بیچ رہا، بلکہ وہ آپ کے فون اور گھر کے داخلی دروازے کے درمیان ایک ایسا نیٹ ورک بنا رہا ہے جس سے نکلنا صارف کے لیے مشکل ہوگا۔”
نیا کمانڈ سینٹر آئی فون 18 پرو ماڈلز سے ملتا جلتا ڈیزائن پیش کرے گا۔ اس میں ایپل انٹیلیجنس کا استعمال کیا جائے گا، جو گھر کے درجہ حرارت سے لے کر بائیو میٹرک سیکیورٹی تک کے تمام امور کو خودکار طریقے سے سنبھالے گی۔
اگرچہ یہ ڈیوائسز ‘میٹر’ اسٹینڈرڈ کو سپورٹ کریں گی تاکہ دوسری کمپنیوں کے آلات کے ساتھ بھی کام کر سکیں، لیکن ایپل کی اپنی خاص خصوصیات — جیسے کہ گھر کی سیکیورٹی کے لیے ڈیپ نیورل پروسیسنگ — صرف ایپل کے اپنے آلات تک محدود رہیں گی۔
ایپل کی یہ حکمت عملی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب کمپنی صرف سروسز پر انحصار نہیں کرنا چاہتی۔ اسمارٹ فونز کی مارکیٹ میں سستی کے بعد، ایپل کا اگلا میدانِ جنگ صارفین کے گھر ہیں۔
تاہم، سرمایہ کاروں کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایپل اپنی مہنگی قیمتوں کے باوجود صارفین کو یہ قائل کر سکے گا کہ یہ ڈیوائسز ایک ضرورت ہیں، نہ کہ صرف ایک پرتعیش اضافہ۔ اگر آئی فون 18 ان تمام ڈیوائسز کا ‘ریمورٹ’ بن جاتا ہے، تو ایپل کے لیے یہ ہوم آٹومیشن کی صنعت میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا بہترین موقع ہوگا۔
