اسمارٹ فونز کی ہمہ وقتی موجودگی اور مسلسل نوٹیفکیشنز سے اکتا کر اب صارفین ایک پرانی دنیا کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں ’ڈم فونز‘ یا فیچر فونز کی فروخت میں غیر متوقع اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ ڈیجیٹل دنیا سے وقتی دوری اختیار کرنے کی خواہش ہے۔
یہ رجحان خاص طور پر نوجوان نسل اور ان پیشہ ور افراد میں مقبول ہو رہا ہے جو دن بھر اسکرین کے سامنے بیٹھنے کی وجہ سے ذہنی تھکن کا شکار ہیں۔ اب لوگ مہنگے اور جدید ترین فونز کے بجائے ایسے سادہ ہینڈ سیٹس خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں جن پر صرف کال کی جا سکتی ہے یا پیغام بھیجا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ صرف ایک فیشن نہیں بلکہ ’اٹینشن اکانومی‘ کے خلاف ایک خاموش بغاوت ہے۔ صارفین یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اسمارٹ فونز کی قیمت صرف پیسوں میں نہیں، بلکہ ان کی ذہنی توجہ اور وقت کی صورت میں بھی ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ ایک سادہ فون کا انتخاب کر کے لوگ اپنی زندگی سے سوشل میڈیا کا لامتناہی اسکرول اور ہر وقت کام کی ای میلز کا دباؤ ختم کر رہے ہیں۔
ایک صارف نے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "میں دن میں چھ گھنٹے اسکرین پر ضائع کرتا تھا۔ اب میرے پاس ایک سادہ فلپ فون ہے، میں غیر ضروری ایپس سے آزاد ہوں اور میری کارکردگی میں واضح بہتری آئی ہے۔”
ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اس تبدیلی کو بھانپ چکی ہیں۔ نوکیا جیسے برانڈز نے اب اپنے سادہ فونز کی مارکیٹنگ کو ’ڈیجیٹل ڈیٹوکس‘ کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان فونز میں کیمرے یا طاقتور پروسیسر کے بجائے ’توجہ‘ اور ’سکون‘ کو فروخت کیا جا رہا ہے۔
تاہم، اس رجحان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں مکمل طور پر اسمارٹ فون سے کنارہ کشی ممکن نہیں۔ بینکنگ ایپس، کیو آر کوڈز اور ٹو فیکٹر تصدیق جیسے کاموں کے لیے آج بھی اسمارٹ فون ناگزیر ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی اپنے ساتھ ایک اسمارٹ فون اور ایک سادہ فون دونوں رکھتے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ ڈیجیٹل دنیا سے جڑ سکیں۔
اس کے باوجود، ڈم فونز کی مقبولیت یہ بتاتی ہے کہ صارفین اب ٹیکنالوجی کے غلام بننے کے بجائے اس کے استعمال پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جدیدیت کی دوڑ میں اب ایک ایسا طبقہ بھی سامنے آ رہا ہے جو یہ مانتا ہے کہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سب سے بہترین ٹیکنالوجی وہی ہے جو آپ کو دنیا سے نہیں، بلکہ خود سے جوڑے رکھے۔
