کینیا کے جنگلات میں پیش آنے والے ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ایکواڈور کے انٹیلی جنس سربراہ اور پانچ امریکی شہری ہلاک ہو گئے۔ حادثہ منگل کی صبح ماسائی مارا نیشنل ریزرو کے قریب پیش آیا، جہاں طیارے نے ٹیک آف کیا تھا۔
کینیا کی پولیس کے مطابق، ہیلی کاپٹر پرواز کے چند منٹ بعد ہی ریڈار سے غائب ہو گیا تھا۔ امدادی ٹیموں نے شدید بارش اور خراب موسم کے باوجود ملبہ تلاش کر لیا، تاہم حادثے میں کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکا۔
ایکواڈور کی حکومت نے ہلاک ہونے والے انٹیلی جنس سربراہ کی شناخت جنرل فوسٹو کوبو کے طور پر کی ہے۔ جنرل کوبو کینیا میں ایک خفیہ سیکیورٹی مشن پر تھے، جس کی تفصیلات تاحال صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں۔ طیارے میں سوار پانچ امریکی شہری نجی سیکیورٹی کمپنی سے وابستہ تھے، جو کینیا میں وائلڈ لائف کے تحفظ اور انسدادِ اسمگلنگ کے آپریشنز میں مدد فراہم کر رہے تھے۔
کینیا کے پولیس کمشنر جافیت کومے نے صحافیوں کو بتایا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پائلٹ نے پرواز کے چار منٹ بعد ہی کنٹرول ٹاور کو تکنیکی خرابی اور ہیلی کاپٹر میں غیر معمولی ارتعاش کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
یہ حادثہ ایکواڈور کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ جنرل کوبو ملک میں منشیات کے بین الاقوامی کارٹیلز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے مرکزی منصوبہ ساز تھے۔ ان کی مشرقی افریقہ میں موجودگی نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ یہ مشن محض سیکیورٹی تعاون تک محدود نہیں تھا، بلکہ جنوبی امریکہ سے ایشیا تک منشیات کی ترسیل کے خفیہ راستوں کی نگرانی سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔
امریکی سفارت خانے کے حکام مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر لاشوں کی منتقلی کے عمل کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ فی الحال، تفتیش کاروں کی توجہ ہیلی کاپٹر کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر پر مرکوز ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ حادثہ واقعی تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور محرک کارفرما تھا۔
حادثے کی تحقیقات مکمل ہونے تک، ایکواڈور کے انٹیلی جنس چیف اور نجی سیکیورٹی کنٹریکٹرز کا یہ مشترکہ مشن عالمی حلقوں میں سوالات کا مرکز بنا رہے گا۔
