گوگل اینڈرائیڈ 17 کے ساتھ اپنے آپریٹنگ سسٹم کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی لا رہا ہے۔ کمپنی اب پس منظر میں چلنے والی ایپس کی میموری کے استعمال پر سخت حدود لاگو کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مقصد خاص طور پر بجٹ اور درمیانے درجے کے اسمارٹ فونز کی رفتار کو بہتر بنانا ہے۔
اس اپ ڈیٹ کا بنیادی مقصد ان ایپس کو لگام دینا ہے جو صارف کی مرضی کے بغیر سسٹم کی ریم کو مسلسل استعمال کرتی رہتی ہیں۔ اب تک اینڈرائیڈ کا کھلا ماحول ڈویلپرز کو یہ آزادی دیتا تھا کہ وہ پس منظر میں خدمات کو فعال رکھیں، جس کا خمیازہ فون کی بیٹری اور رفتار کو بھگتنا پڑتا تھا۔ اینڈرائیڈ 17 میں سسٹم اب ان ایپس کو سختی سے مانیٹر کرے گا جو مقررہ حد سے زیادہ میموری استعمال کریں گی۔
اس تبدیلی سے عام صارف کو کیا فائدہ ہوگا؟ سب سے بڑا فرق ایپس کے دوبارہ لوڈ ہونے میں کمی کی صورت میں نظر آئے گا۔ جب سسٹم پس منظر کی فالتو ایپس کو وقت پر بند کر دے گا، تو مرکزی ایپس کے لیے زیادہ ریم دستیاب ہوگی، جس سے فون ہینگ ہونے یا رک رک کر چلنے کی شکایت کم ہو جائے گی۔ گوگل کے ابتدائی ٹیسٹ بتاتے ہیں کہ اس اقدام سے سسٹم کی کارکردگی میں 15 فیصد تک بہتری آ سکتی ہے۔
تاہم، یہ فیصلہ ہر کسی کے لیے خوش آئند نہیں ہوگا۔ پاور یوزرز—جو فون پر خودکار ٹاسک یا مسلسل سنکنگ کے لیے پس منظر کی ایپس پر انحصار کرتے ہیں—انہیں اس نئی پابندی سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈویلپرز کو بھی اب اپنی ایپس کے میموری فٹ پرنٹ کو بہتر بنانا ہوگا، ورنہ ان کی ایپس سسٹم کی جانب سے ‘فریز’ کر دی جائیں گی۔
یہ اقدام گوگل کی اس پرانی پالیسی سے ایک واضح انحراف ہے جس میں ہر چیز کی آزادی کو ترجیح دی جاتی تھی۔ اب کمپنی ایک ایسے تجربے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں سسٹم کی روانی، خام طاقت سے زیادہ اہم ہے۔
اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں اس فیصلے کا خیرمقدم کر رہی ہیں۔ اس سے انہیں کم ریم والے فونز کو بھی تیز رفتار دکھانے میں مدد ملے گی، جو کہ بجٹ اسمارٹ فون مارکیٹ میں ایک اہم ضرورت ہے۔ گوگل جلد ہی ڈویلپر سمٹ میں اس کے تکنیکی پہلوؤں کا اعلان کرے گا، لیکن پیغام واضح ہے: پس منظر میں ایپس کے لامحدود وسائل کے استعمال کا دور ختم ہو رہا ہے۔
