اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کی رفتار کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ موجودہ انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، ہائیر پلاننگ کونسل نے ہزاروں نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبوں کی منظوری دی ہے، جس نے عالمی سطح پر جاری تنقید اور سفارتی دباؤ کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔
اس توسیع کے پیچھے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی مجبوری اور ان کے دائیں بازو کے اتحادیوں کا دباؤ کارفرما ہے۔ وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر جیسے سخت گیر رہنماؤں کے لیے یہ بستیاں محض تعمیراتی منصوبے نہیں، بلکہ ایک نظریاتی ایجنڈا ہیں۔ نیتن یاہو اپنی حکومت کو بچانے کے لیے ان اتحادیوں کی ہر شرط ماننے پر مجبور ہیں، جن کا واضح مطالبہ ہے کہ مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول کو مستقل کیا جائے۔
یہ تعمیراتی سرگرمیاں علاقے کی جغرافیائی حقیقت کو تیزی سے بدل رہی ہیں۔ پرانی اور غیر قانونی چوکیوں کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی جا رہی ہے، جبکہ نئی سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کا جال بچھایا جا رہا ہے تاکہ بستیوں کو اسرائیل کے مرکزی علاقوں سے جوڑا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو عملی طور پر ختم کرنا ہے۔ جب زمین کا بڑا حصہ مستقل تعمیرات سے بھر جائے گا، تو دو ریاستی حل کا خواب محض ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ جائے گا۔
عالمی برادری، بشمول امریکہ، ان بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے۔ تاہم، عملی اقدامات کے فقدان نے اسرائیل کو مزید جرات دی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے صرف زبانی مذمت اور ٹھوس پابندیوں کا نہ ہونا، نیتن یاہو حکومت کے لیے ایک طرح کا "گرین سگنل” ہے۔
فلسطینیوں کے لیے اس توسیع کا مطلب روزمرہ کی زندگی میں مزید مشکلات اور زمینوں سے محرومی ہے۔ اردن کی وادی اور جنوبی ہیبرون کے کسانوں کو اپنی آبائی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے، جبکہ آباد کاروں کی جانب سے تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیئر عہدیدار نے حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "بستیوں میں رکھی جانے والی ہر نئی اینٹ امن عمل کے تابوت میں ایک کیل ہے۔ وہ صرف گھر نہیں بنا رہے، بلکہ نقشے کو اس طرح بدل رہے ہیں کہ ہمارے لیے وہاں کوئی مستقبل باقی نہ رہے۔”
اسرائیلی حکومت کی حکمت عملی واضح ہے: جب دنیا دیگر علاقائی بحرانوں میں الجھی ہوئی ہے، تو زمین پر حقائق کو اتنا مستحکم کر دیا جائے کہ انہیں تبدیل کرنا ناممکن ہو جائے۔ جب تک عالمی دباؤ بڑھے گا، تب تک حقائق کی یہ نئی شکل ناقابلِ واپسی حد تک پہنچ چکی ہوگی۔
