کاراکاس میں منگل کی رات سے شروع ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے وینزویلا کے دارالحکومت کا نظام درہم برہم کر دیا ہے۔ شہر کی مرکزی شاہراہیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں پیٹارے اور ایل ویلے شامل ہیں، جہاں برساتی پانی کے نکاس کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ سڑکوں پر کھڑی گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں، جس کے باعث ٹریفک کا نظام گھنٹوں معطل رہا۔ میونسپل عملہ نالوں سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہے، لیکن بارش کا تسلسل بحالی کے کاموں میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
کاراکاس کے مکینوں کے لیے یہ صورتحال نئی نہیں۔ شہر کا برساتی پانی نکالنے کا بوسیدہ نظام دہائیوں سے دیکھ بھال کا منتظر ہے۔ آبادی میں اضافے اور شہری منصوبہ بندی کے فقدان نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ حکومتی امداد کے منتظر رہنے کے بجائے وہ خود نالوں کی صفائی کرنے پر مجبور ہیں، ورنہ پانی ان کی دکانوں میں داخل ہو جاتا ہے۔
مقامی رہائشی ماریا ایلینا نے بتایا کہ "جب بھی آسمان برستا ہے، ہمارے لیے ایک نیا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ ہم خود نالے صاف کرتے ہیں کیونکہ اگر شہر کے عملے کا انتظار کریں تو پانی کمر تک پہنچ جاتا ہے۔”
محکمہ موسمیات نے رواں ہفتے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کے بعد گائیارے دریا کے قریب واقع آبادیوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی ہے۔ دریا کی سطح اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے، جس کے باعث ہنگامی صورتحال کا خدشہ برقرار ہے۔
شہر کے مضافاتی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے چھوٹے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی آمدورفت معطل رہی۔ تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم چھوٹے کاروباروں کو پہنچنے والا مالی نقصان اور عوامی نقل و حمل میں خلل شہر کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
فی الحال کاراکاس کے مکین صفائی کے کاموں میں جٹے ہوئے ہیں، لیکن فضا میں موجود بادلوں کو دیکھ کر ہر کوئی اگلی بارش کے خوف میں مبتلا ہے۔ شہر کی بقا اب اس بات پر منحصر ہے کہ آیا میونسپل ٹیمیں اگلی لہر سے پہلے نکاسی آب کے اہم مقامات کو صاف کر پاتی ہیں یا نہیں۔
