آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اسمبلی میں خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی نمائندگی کا عمل مکمل ہو گیا ہے، جس سے ایوان کی مجموعی تعداد اور سیاسی توازن واضح ہو چکا ہے۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اسمبلی میں خواتین کے لیے مختص 5 اور ٹیکنوکریٹس کے لیے 3 نشستوں کی تقسیم کا فارمولا گزشتہ عام انتخابات میں حاصل ہونے والی جنرل نشستوں کی بنیاد پر طے کیا گیا ہے۔ اس تقسیم کے نتیجے میں حکمران جماعت کو ایوان میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا موقع ملا ہے۔
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ عمل آزاد کشمیر عبوری آئین ایکٹ کے عین مطابق ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے وہی طریقہ کار اپنایا ہے جو ماضی کے انتخابات میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس سے اسمبلی کا کام کاج بلا تعطل جاری رہ سکے گا۔
تاہم، اپوزیشن جماعتوں — پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) — نے اس تقسیم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا موقف ہے کہ نشستوں کی یہ تقسیم متناسب نمائندگی کے اصولوں سے ہٹ کر ہے اور اس میں شفافیت کا فقدان ہے۔ قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اپوزیشن نے اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اشارہ دیا ہے۔
عام ووٹر کے لیے یہ اٹھ نشستیں محض اعداد و شمار نہیں ہیں۔ ان کا براہِ راست تعلق بجٹ کی منظوری، قانون سازی اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم سے ہے۔ اسمبلی اب مکمل ہو چکی ہے، لیکن سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کے بجائے بڑھ گیا ہے۔
اگلے ہفتے بلائے گئے اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن نے ان تقرریوں کو ایوان کے اندر چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جب تک عدالت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں آتا، یہ تقسیم اسمبلی کا حتمی منظرنامہ رہے گی، جس کے سائے میں حکومتی اتحاد کو اپنی پہلی بڑی قانون سازی مکمل کرنی ہوگی۔
