بینکاک — ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے انتخابات میں پاکستان کی حمایت یافتہ پینل نے کلین سویپ کرتے ہوئے بورڈ کی تمام نشستیں اپنے نام کر لی ہیں۔ منگل کو بینکاک میں ہونے والی اس پیش رفت نے علاقائی کرکٹ کی سیاست میں پاکستان کا پلڑا بھاری کر دیا ہے۔
انتخابات کے یہ نتائج کرکٹ کے ایوانوں میں طاقت کے نئے توازن کی عکاسی کرتے ہیں۔ طویل عرصے سے اے سی سی میں فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے رہے ہیں، لیکن اس بار پاکستان کی جانب سے کی گئی لابنگ اور ہم خیال بورڈز کا اتحاد فیصلہ کن ثابت ہوا۔
اس کامیابی کا مطلب کیا ہے؟ اب پاکستان کی حمایت یافتہ قیادت کے پاس اتنی سیاسی طاقت موجود ہے کہ وہ مالیاتی اصلاحات اور ایشیا کپ کے آئندہ شیڈولز کے حوالے سے اپنے ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھا سکے۔ پی سی بی کے لیے یہ ایک بڑی سفارتی فتح ہے، جس نے گزشتہ کئی ماہ سے جاری پس پردہ کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
انتخابات کے عمل سے واقف ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ نتائج خطے میں کرکٹ کے لیے ایک متفقہ وژن کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے صرف ناموں کا انتخاب نہیں کیا، بلکہ ایک ایسے مالیاتی ماڈل کو ووٹ دیا ہے جو انتظامی اخراجات کے بجائے ممبر بورڈز کی پائیداری کو ترجیح دیتا ہے۔”
دوسری جانب، ناقدین کا ماننا ہے کہ اس کلین سویپ سے کونسل کے اندر خلیج گہری ہو سکتی ہے۔ چھوٹے ممبر ممالک کو خدشہ ہے کہ فیصلے کرنے کا اختیار چند ہاتھوں میں مرکوز ہو جائے گا، جس سے ان کی ضروریات اور فنڈز کی تقسیم متاثر ہو سکتی ہے۔
بورڈ کی نئی قیادت کا پہلا امتحان بدھ کو ہونے والا ہنگامی اجلاس ہے۔ ایجنڈے میں ریونیو کی تقسیم کا تناسب اور انڈر 19 اور ویمن ایشیا کپ کی میزبانی کے حقوق جیسے حساس معاملات سرفہرست ہیں۔
نئی قیادت کو واضح مینڈیٹ تو مل گیا ہے، لیکن اصل چیلنج اس اتحاد کو برقرار رکھنا ہوگا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ نئی ٹیم اپنے مفادات اور کونسل کے وسیع تر اہداف کے درمیان توازن قائم رکھ پائے گی یا کرکٹ کی سیاست میں مزید گروہ بندی جنم لے گی۔
