اسلام آباد: عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کردی ہے اور ملک کا مستقبل کا آؤٹ لک مستحکم برقرار رکھا ہے۔
موڈیز کے مطابق ریٹنگ میں بہتری کی اہم وجوہات میں گورننس میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، بیرونی مالیاتی خطرات میں کمی اور معاشی استحکام کا تسلسل شامل ہیں۔
ریٹنگ ایجنسی نے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جولائی 2026 تک بڑھ کر 17 ارب ڈالر ہوگئے، جو ایک سال کے دوران تقریباً 3 ارب ڈالر کا اضافہ ہے۔
موڈیز کے مطابق پاکستان کی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2026 میں حکومت کے سودی اخراجات آمدنی کے تقریباً 35 فیصد رہے، جبکہ پالیسی ریٹ میں کمی سے مقامی قرضوں کے اخراجات کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی۔
ایجنسی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں 75 کروڑ ڈالر کا یورو بانڈ جاری کیا، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی میں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔
موڈیز کا کہنا ہے کہ گورننس میں بہتری پاکستان کو عالمی سطح پر حاصل ہونے والے فوائد برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھنے کی توقع ہے۔
تاہم پاکستان کو اب بھی کئی اہم اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں کمزور ٹیکس اور آمدنی کا نظام، غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی کم سطح، قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ اور بیرونی مالیاتی خطرات شامل ہیں۔
ریٹنگ میں تازہ بہتری کے باوجود موڈیز نے واضح کیا کہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی اور مالی استحکام کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔
