اسلام آباد: برطانیہ اور پنجاب و خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کے نتیجے میں 2 لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم تک بہتر رسائی حاصل ہوئی جبکہ ان کی بنیادی خواندگی، حساب اور زندگی کی مہارتوں میں بھی بہتری آئی ہے، برطانوی ہائی کمیشن نے پیر کو بتایا۔
برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق پروگرام میں شامل بچوں کی اردو پڑھنے کی صلاحیت 15 فیصد سے بڑھ کر 78 فیصد ہوگئی، جبکہ انگریزی پڑھنے کی صلاحیت 15 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد تک پہنچ گئی۔ تفریق کی مہارت بھی 37 فیصد سے بڑھ کر 67 فیصد ہوگئی۔
برطانیہ اور پاکستان کے درمیان شراکت داری کے تحت بچوں کی تعلیمی سطح جانچنے، ان کی ضروریات کے مطابق تدریس، اساتذہ کی رہنمائی اور باقاعدہ پیش رفت کا جائزہ لینے جیسے اقدامات کیے گئے تاکہ طلبہ بنیادی تعلیمی صلاحیتوں میں درپیش خلا کو پورا کرسکیں۔
پروگرام کے تحت 500 سے زائد سرکاری اسکولوں کا احاطہ کیا گیا جبکہ 35 ہزار سے زائد اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیم کے نظام میں شامل کیا گیا۔
برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق 48 ہزار طلبہ کو اضافی تعلیمی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ 5,500 سے زائد اساتذہ اور 250 ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی گئی۔ اس کے علاوہ 400 اسکولوں کی سہولیات میں بھی بہتری لائی گئی۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ بچوں کے تعلیمی نتائج بہتر بنانے میں اساتذہ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کامیابی کا سب سے اہم پیمانہ یہ ہے کہ اساتذہ ان طریقہ کار کو اتنا مفید سمجھیں کہ انہیں مستقبل میں بھی استعمال کرتے رہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک حاصل ہونے والی آرا انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ ان کے مطابق حکومتوں، اسکولوں اور کمیونٹیز کو ایک ساتھ لانے سے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو پہلے سادہ جملہ بھی نہیں پڑھ سکتے تھے اور اب خود پڑھنے کے قابل ہوگئے ہیں۔
پنجاب ایجوکیشن کریکولم، ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد موسیٰ علی بخاری نے کہا کہ پنجاب کے ہر بچے کو پرائمری تعلیم مکمل کرنے سے قبل اعتماد کے ساتھ پڑھنے، لکھنے اور گنتی کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے تعاون سے پنجاب میں بنیادی تعلیمی صلاحیتوں سے متعلق بحث کو محض نظریاتی گفتگو سے عملی نتائج کی جانب منتقل کرنے میں مدد ملی ہے۔
دریں اثنا، خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے خصوصی سیکریٹری مسعود احمد نے کہا کہ برطانیہ کے تعاون سے جاری پروگرام نے ثابت کیا ہے کہ بنیادی تعلیم میں ہدفی سرمایہ کاری بچوں اور کمیونٹیز کے لیے نمایاں نتائج پیدا کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس پیش رفت کو مزید آگے بڑھانے اور ہر بچے کو خواندگی اور حساب کی وہ بنیادی مہارتیں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے جو زندگی بھر سیکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
