کراچی: سابق اداکارہ مشعل خان نے خواتین کی مالی خودمختاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو بدترین صورتحال کی توقع رکھنے کے بجائے مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیار رہنا چاہیے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں مشعل خان نے کہا کہ وہ مالی منصوبہ بندی اور مالی شعور کے فروغ کو اپنے مشن کا حصہ سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں عام لوگوں، خصوصاً خواتین، کو مالی منصوبہ بندی کی اہمیت سمجھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی خاتون کے شوہر کا انتقال ہوجائے اور تمام مالی اثاثے اس کے خاندان کو منتقل ہوجائیں تو ایسی صورتحال میں خاتون کے پاس کیا راستہ ہوگا۔ ان کے مطابق مالی منصوبہ بندی اس لیے نہیں کی جاتی کہ کوئی برا واقعہ ضرور پیش آئے گا، بلکہ اس لیے کی جاتی ہے کہ کسی غیر متوقع مشکل وقت میں انسان خود کو سنبھال سکے۔
مشعل نے کہا کہ مالی شعور صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے پاکستان میں مالیاتی خدمات اور کاروباری شعبے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں کے بجائے اکثر توجہ محدود طبقے پر مرکوز رہتی ہے۔ ان کے مطابق عام شہری بینک جانے سے بھی گھبراتا ہے، جبکہ مالیاتی اداروں کے اشتہارات اور نعرے اکثر ایسی زبان میں ہوتے ہیں جو عام آدمی کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں۔
سابق اداکارہ نے غربت اور پاکستان میں تعلیم کی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ وہ اپنے ملک میں مثبت تبدیلی لانے میں کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بہت سے لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ بیرونِ ملک مواقع کے لیے درخواست کیوں نہیں دیتیں۔ مشعل کے مطابق اگر کسی شخص کے پاس اپنے ملک کے لیے کچھ کرنے کا موقع ہو تو صرف ذاتی کامیابی کے لیے ملک چھوڑ دینا ان کے نزدیک درست طرزِ عمل نہیں۔
مردوں اور خواتین کے مالی فیصلوں کے فرق پر بات کرتے ہوئے مشعل نے کہا کہ بعض اوقات مرد اپنے فیصلوں میں انا سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جس کا اثر مالی معاملات اور کاروباری فیصلوں پر پڑسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور مشکلات پر قابو پانے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں، جبکہ ان کے مطابق دنیا بھر میں خواتین نے کئی مواقع پر مالی انتظام کے میدان میں بھی مضبوط صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔
مشعل نے اپنے اداکاری چھوڑنے کے فیصلے پر بھی تفصیل سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت پر انہیں محسوس ہوا کہ وہ زندگی میں کسی ایسے مقصد کی تلاش میں ہیں جس سے انہیں حقیقی خوشی اور مقصد کا احساس ملے۔
ان کے مطابق اداکاری کے شعبے سے انہیں کوئی شکایت نہیں تھی، لیکن وہ خود اس ماحول کے لیے موزوں محسوس نہیں کرتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اداکاری کے دوران انہیں بار بار طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوئی۔
مشعل نے کہا کہ اداکاروں کی زندگی بظاہر بہت سہل دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں اس شعبے میں کام کرنا جسمانی اور ذہنی طور پر انتہائی محنت طلب ہے۔ ان کے مطابق وہ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا، سکون سے بیٹھ کر کتابیں پڑھنا اور روزمرہ زندگی میں زیادہ توازن چاہتی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ اپنی آخری فلم یا منصوبے ’پاگل خانہ‘ کی شوٹنگ کے دوران ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ شاید یہ ان کا آخری کام ہوگا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ ان کے دل کے قریب تھا اور اس نے انہیں اداکاری سے اپنی پرانی محبت یاد دلائی، لیکن ساتھ ہی انہیں یہ بھی احساس ہوا کہ وہ ایسی خوشی چاہتی ہیں جو صرف کسی ایک دن تک محدود نہ ہو بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بنے۔
مشعل خان اس وقت ایک مالیاتی کمپنی میں منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف مارکیٹنگ آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور خوردہ سطح کی سرمایہ کاری و کاروباری سرگرمیوں سے بھی وابستہ ہیں۔ وہ ڈیجیٹل آگاہی کے ذریعے ادارہ جاتی قیادت اور مالی شعور کے فروغ کے لیے بھی کام کرتی ہیں۔
