معروف وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے میر رضا علی کی گمشدگی کے معاملے پر سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جبران ناصر کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کو بھجوائے گئے 24 اہم سوالات کا جواب دینے کے بجائے حکومتی سطح پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
یہ معاملہ کراچی میں شہریوں کی گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کی ایک کڑی ہے، جس نے انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جبران ناصر کا موقف ہے کہ حکومتی خاموشی صرف لاپرواہی نہیں، بلکہ ذمہ داری سے بچنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔
جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے یہ سوالات شور مچانے کے لیے نہیں بلکہ حقائق کا ریکارڈ بنانے کے لیے بھیجے تھے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ ریاستی مشینری کہاں ناکام ہو رہی ہے۔” ان کے مطابق، حکومت کا رویہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدہ تحقیقات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔
ان 24 سوالات میں بنیادی طور پر گمشدگی کے وقت کا تعین، مقامی پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کرنے کی وجوہات اور صوبائی سرویلنس سسٹم کے ڈیٹا کے استعمال میں ناکامی جیسے نکات شامل ہیں۔ قانونی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گاڑیوں کی تفصیلات اور مقام کی نشاندہی بھی کی، مگر وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔
میر رضا علی کے اہل خانہ گزشتہ کئی ماہ سے تھانوں اور سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں، جہاں انہیں ہر بار نئی کہانی سنا کر ٹرخایا جاتا ہے۔ جبران ناصر نے جب یہ معاملہ وزیرِ اعلیٰ سطح پر اٹھایا تو امید کی جا رہی تھی کہ کوئی عملی پیش رفت ہوگی، لیکن جواب نہ ملنے سے متاثرہ خاندان کی مایوسی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے فی الحال اس الزام پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ صوبائی حکام عام طور پر ایسے معاملات میں وفاقی سیکیورٹی اداروں کے دائرہ اختیار کا حوالہ دے کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، جس سے لواحقین کو انصاف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
جبران ناصر اب اس معاملے کو سندھ ہائی کورٹ میں لے جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 24 سوالات کے جوابات نہ ملنا عدالت میں حکومت کی ناکامی ثابت کرنے کے لیے ایک مضبوط ثبوت ہوگا۔
جب تک حکومت ان سوالات کا جواب نہیں دیتی، میر رضا علی کا کیس کراچی کی گلیوں میں گمشدہ افراد کے لواحقین اور ریاستی اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی ایک تلخ علامت بنا رہے گا۔
