وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں جاری شدید مون سون بارشوں کے پیشِ نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ منگل کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے دوران حکام نے نشیبی علاقوں میں پانی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور کئی اضلاع میں بجلی کی طویل بندش کے حوالے سے بریفنگ دی۔
صوبائی حکومت اب روٹین کی نگرانی سے ہٹ کر ہنگامی رسپانس پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد سمیت بڑے شہری مراکز میں گلی محلوں میں پانی جمع ہونے سے معمولاتِ زندگی درہم برہم ہیں، جبکہ اندرونِ سندھ کے دیہی علاقوں میں کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور کھڑی فصلیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ مرکزی شاہراہوں سے پانی نکالنے کے لیے فوری طور پر اضافی پمپ اور ریسکیو ٹیمیں تعینات کی جائیں۔
وزیراعلیٰ نے صوبائی وزراء اور کمشنرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "جانی و مالی نقصان کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔” انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری طور پر راشن اور طبی امداد کی فراہمی کے لیے فنڈز جاری کرنے کا حکم دیا۔
دوسری جانب، اپوزیشن رہنماؤں نے نکاسی آب کے نظام کی خستہ حالی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سال مون سون سے قبل نالوں کی صفائی کے دعوے صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتے ہیں۔ اگرچہ حکومتی موقف ہے کہ اس سال ہونے والی بارشیں گزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ سے زیادہ ہیں، تاہم سیلابی صورتحال کے شکار رہائشی علاقے سیوریج کے پانی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید شدید بارشوں کا امکان ہے، جس کے پیشِ نظر صوبائی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریائے سندھ کے پشتوں اور پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔
فی الحال وزیراعلیٰ آفس کو ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے نقصانات کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ جب تک یہ رپورٹ مکمل نہیں ہوتی، حکومت کی اولین ترجیح اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے کھولنا اور ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
