اوسلو — ناروے نے آرکٹک کے سرد اور حساس سمندری علاقے میں تیل اور گیس کی تلاش کے لیے مزید 62 بلاکس کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے۔
ناروے اس وقت یورپی یونین کو گیس فراہم کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ روس کی جانب سے سپلائی بند ہونے کے بعد سے اوسلو پر دباؤ ہے کہ وہ اپنی پیداوار بڑھائے۔ اس نئے اقدام کا مقصد یورپی منڈیوں میں توانائی کے بہاؤ کو مستقل رکھنا ہے، تاکہ سردیوں کے دوران یورپ کی صنعتیں اور گھر ٹھنڈے نہ پڑیں۔
ماحولیاتی تنظیموں نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ آرکٹک کا ماحولیاتی نظام انتہائی نازک ہے اور یہاں ڈرلنگ کرنا پیرس معاہدے کے تحت ناروے کے اپنے ہی ماحولیاتی اہداف کی نفی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت وقتی معاشی فائدے کے لیے مستقبل کے بڑے ماحولیاتی بحران کو نظر انداز کر رہی ہے۔
وزارتِ پٹرولیم و توانائی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہمیں اپنے یورپی اتحادیوں کی فوری ضرورت اور اپنے ماحولیاتی معیار کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔” ان کے مطابق، یہ انفراسٹرکچر آئندہ دہائی تک یورپ کی توانائی کی سکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے۔
ماہرینِ توانائی کا ماننا ہے کہ بیرنٹس سی میں تلاش کا کام تکنیکی اعتبار سے انتہائی مشکل اور مہنگا ہے۔ شمالی سمندر کے پرانے کنوؤں کے مقابلے میں یہاں سرمایہ کاری کا خطرہ زیادہ ہے، کیونکہ یہاں سے تیل نکالنے کے لیے درکار ٹیکنالوجی انتہائی جدید اور پیچیدہ ہے۔
یورپی کمیشن نے اس معاملے پر محتاط خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ برسلز کے لیے فی الحال ترجیح گیس کی دستیابی ہے، نہ کہ اس کی پیداوار کا مقام۔ جب تک پائپ لائنوں کے ذریعے گیس پہنچ رہی ہے، یورپی دارالحکومتوں میں اس پر تنقید نہ ہونے کے برابر ہے۔
ایکوی نور جیسی بڑی کمپنیاں ان نئے لائسنسوں کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کے لیے آرکٹک پیداوار کا اگلا محاذ ہے، کیونکہ شمالی سمندر کے پرانے ذخائر اب تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
اگرچہ ان نئے بلاکس سے گیس کی پیداوار شروع ہونے میں کم از کم ایک دہائی کا عرصہ درکار ہوگا، لیکن یہ فیصلہ یورپی منڈیوں کو ایک طویل مدتی پیغام دیتا ہے کہ ناروے اپنی توانائی کی پالیسی کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بظاہر، ماحولیاتی خدشات کو ایک بار پھر توانائی کی جغرافیائی سیاست کے سامنے قربان کر دیا گیا ہے۔
