برطانیہ میں وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دوا ساز کمپنی ایلی للی نے اپنی تجرباتی گولی ’اورفورگلیپرون‘ کے کلینیکل ٹرائلز کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم کمپنی کی جانب سے انجیکشنز کے بجائے روزانہ کھائی جانے والی گولیوں کی طرف ایک بڑی منتقلی کی علامت ہے۔
اب تک مارکیٹ میں موجود وزن کم کرنے والی ادویات، جیسا کہ مونجارو، انجیکشن کی شکل میں دستیاب ہیں۔ بہت سے مریضوں کے لیے ہفتہ وار انجیکشن لگوانا ایک نفسیاتی رکاوٹ ہے، جبکہ کچھ افراد کو انجیکشن کے اسٹوریج اور استعمال کے طریقہ کار میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایلی للی کی یہ نئی گولی ان تمام مسائل کا آسان حل پیش کر سکتی ہے۔
طبی ماہرین اس پیش رفت کو دوا سازی کی صنعت میں ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ اس گولی کی تیاری کا عمل پیچیدہ بائیولوجیکل انجیکشنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان اور سستا ہے۔ اگر ٹرائلز کامیاب رہتے ہیں تو کمپنی کی پیداواری صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مارکیٹ میں موجود قلت کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
تاہم، چیلنجز اب بھی برقرار ہیں۔ اینڈوکرائنولوجسٹ ڈاکٹر سارہ جینکنز کا کہنا ہے کہ "روزانہ گولی کھانے کی پابندی اور ہفتہ وار انجیکشن میں فرق ہے۔ مریض اکثر ہفتے میں ایک بار انجیکشن لگوانا زیادہ آسان سمجھتے ہیں، جبکہ روزانہ گولی کھانا بھول جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔”
ادویات کی فراہمی اور مینوفیکچرنگ کے ماہرین کے مطابق، ایلی للی اس نئی دوا کے ذریعے ان مریضوں کو ہدف بنا رہی ہے جو انجیکشن سے گھبراتے ہیں۔ برطانوی ریگولیٹری اتھارٹی ان ٹرائلز کے نتائج پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر یہ گولی انجیکشن کے برابر وزن کم کرنے میں کامیاب رہی، تو یہ موٹاپے کے علاج کے لیے ایک نیا معیار قائم کر دے گی۔
فی الحال، سب کی نظریں کلینیکل ڈیٹا پر مرکوز ہیں۔ ایلی للی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ گولی نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اس کے نتائج بھی اتنے ہی موثر ہیں جتنے کہ مارکیٹ میں پہلے سے موجود انجیکشنز کے ہیں۔ کامیابی کی صورت میں، یہ دوا برطانیہ میں وزن کم کرنے کے علاج کا منظرنامہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
