امراض قلب کے علاج کے لیے قائم کیے گئے جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی بھرتیوں کا عمل سنگین بے ضابطگیوں کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
بھرتیوں میں مبینہ بے قاعدگیوں پر محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ نے کارروائی کرتے ہوئے بھرتی سے متعلق ریکارڈ قبضے میں لے لیا تھا، جس کے بعد بھرتیوں کا پورا عمل التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں اور دیگر عملے کی بھرتی نہ ہونے کے باعث ادارے کو فعال بنانے کا منصوبہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے تقریباً 12 ارب روپے کی لاگت سے امراض قلب کے علاج کے لیے اس جدید علاج گاہ کی تعمیر کی گئی ہے، تاہم ضروری طبی عملہ نہ ہونے کے باعث ادارے کے افتتاح کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
