محکمہ موسمیات نے 27 اگست سے ملک بھر میں مون سون بارشوں کے ایک نئے سلسلے کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ یہ سلسلہ 31 اگست تک جاری رہے گا، جس کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت ملک کے بالائی اور وسطی حصوں میں موسلادھار بارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خلیج بنگال سے آنے والا یہ موسمیاتی نظام ملک کے مختلف علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ شہری علاقوں میں نشیبی نشیبی علاقے زیرِ آب آ سکتے ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم اس سسٹم کی شدت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ گلیات، مری اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں پہلے سے موجود نمی کے باعث زمین نرم ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔”
شہری انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے صوبائی اداروں کو کہا ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشینری اور عملے کو حساس مقامات پر تعینات کریں۔ نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنا اس وقت انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔
کاشتکاروں کے لیے یہ بارشیں ملی جلی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔ جہاں خشک علاقوں میں فصلوں کو پانی ملے گا، وہیں نشیبی کھیتوں میں پانی کھڑا ہونے سے فصلوں کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ مقامی حکام نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فصلوں کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
شمالی علاقہ جات کا سفر کرنے والے سیاحوں کو خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے قراقرم ہائی وے اور دیگر پہاڑی راستوں پر لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیشِ نظر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مون سون کی یہ لہر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موسم اب بھی غیر مستحکم ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں اور تیز بارشوں کے دوران ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔
