ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق، نیشنل فٹ بال لیگ کے سابق کھلاڑیوں میں ’کرونک ٹرامیٹک اینسفلوپیتھی‘ نامی دماغی بیماری کی شرح 91.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی کےسینٹر کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار کھیل کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑنے کے لیے کافی ہیں۔
جریدے میں شائع ہونے والی یہ رپورٹ 376 ایسے سابق کھلاڑیوں کے دماغی معائنے پر مبنی ہے جنہوں نے انتقال کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کیے تھے۔ ان میں سے 345 کھلاڑیوں کے دماغ میں کی تصدیق ہوئی۔ یہ بیماری مسلسل سر پر لگنے والی چوٹوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، جس کی علامات میں یادداشت کا ختم ہونا، شدید ڈپریشن اور غیر معمولی جارحانہ رویہ شامل ہیں۔
اس تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر این میکی کا کہنا ہے کہ "یہ شرح ہماری پچھلی تمام تحقیقات سے زیادہ ہے۔ اب یہ صرف چند کھلاڑیوں کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ اس پیشے کا ایک تلخ اور وسیع حقیقت بن چکا ہے۔”
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام دماغ ان خاندانوں کی جانب سے عطیہ کیے گئے تھے جنہیں پہلے ہی اپنے پیاروں کے دماغی مسائل کا شبہ تھا، مگر اس کے باوجود یہ اعداد و شمار نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ فٹ بال کے میدان میں گزارا گیا وقت براہِ راست بیماری کی شدت سے جڑا ہے۔ جن کھلاڑیوں کا کیریئر 15 سال سے طویل رہا، ان کے دماغ میں بیماری کے اثرات دیگر کھلاڑیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین پائے گئے۔
این ایف ایل انتظامیہ نے گزشتہ برسوں میں کھیل کے قوانین میں تبدیلی کی ہے، جیسے کہ خطرناک ٹیکلز پر پابندی اور کنکشن (سر کی چوٹ) کے پروٹوکولز کو سخت کرنا۔ تاہم، ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ پریکٹس اور میچوں کے دوران لگنے والی ہزاروں چھوٹی چھوٹی ضربیں مجموعی طور پر دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہیں۔
لیگ کا مؤقف ہے کہ وہ آزادانہ طبی تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کر رہی ہے اور کھیل کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ لیکن اس نئی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد، کھلاڑیوں کی تنظیموں اور ان کے اہل خانہ کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
سوال اب یہ نہیں ہے کہ آیا فٹ بال میں کا خطرہ موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس کھیل کو اس حد تک محفوظ بنایا جا سکتا ہے کہ آنے والی نسلیں اس تباہ کن بیماری سے محفوظ رہ سکیں؟ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ابھی اس سفر میں بہت طویل فاصلہ طے کرنا باقی ہے۔
