نئی دہلی — بھارت بھر میں سرکاری ملازمتوں اور داخلہ امتحانات کے پیپرز لیک ہونے کے خلاف طلبہ کا غصہ سڑکوں پر آگیا ہے۔ گزشتہ کئی روز سے جاری مظاہروں کے دوران دہلی، اتر پردیش اور بہار سمیت کئی ریاستوں میں طلبہ کی پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں، جہاں حکام نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
احتجاج کی بنیادی وجہ ‘نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی’ کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات ہیں۔ میڈیکل کے داخلہ امتحان میں دھاندلی کے الزامات اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے منعقدہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد اسے فوری طور پر منسوخ کرنا، طلبہ کے لیے پیمانہ صبر لبریز ہونے کا سبب بنا۔
"ہم برسوں محنت کرتے ہیں، والدین کی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ پیپر چند ہزار روپے میں ٹیلی گرام پر بک رہا ہے،” 22 سالہ طالب علم انکت کمار نے احتجاج کے دوران کہا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک امتحان کا مسئلہ نہیں، بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کا سودا ہے۔
بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے "بے قاعدگیوں” کا اعتراف تو کیا ہے، لیکن وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے مطالبات کو مسترد کر چکے ہیں۔ حکومت نے کے نظام کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے، لیکن طلبہ اس یقین دہانی کو محض ایک روایتی سیاسی بیان سمجھتے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس صورتحال کو حکومت کی "مجرمانہ غفلت” قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے اور وہ ان امتحانات کی حفاظت میں ناکام رہا ہے جن پر کروڑوں نوجوانوں کی زندگیوں کا انحصار ہے۔
اگلے چند ہفتوں میں کی کونسلنگ شروع ہونی ہے، جس سے حکومت پر دباؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات دوبارہ لینے کا مطالبہ نہیں کر رہے، بلکہ وہ اس پورے بھرتی کے نظام میں مکمل شفافیت اور تبدیلی چاہتے ہیں۔
پولیس کی بھاری نفری اب بھی اہم مقامات پر تعینات ہے، لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک شفافیت کی ضمانت نہیں ملتی، وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ رواں ماہ کے آخر میں مزید امتحانات شیڈول ہیں، لیکن لاکھوں طلبہ کا اس نظام پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
