راولپنڈی: راولپنڈی کی عدالت نے بدھ کے روز حنا جاوید کے شوہر سہیل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین روز کی توسیع کردی۔ دونوں ملزمان کو 45 سالہ حنا جاوید کے مبینہ قتل کے مقدمے میں پولیس نے عدالت کے سامنے پیش کیا تھا۔
دونوں ملزمان کو ابتدائی تین روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد سخت سیکیورٹی میں سول جج رانا شاہنواز خان کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے پولیس کو تحقیقات جلد مکمل کرنے اور چالان پیش کرنے کی ہدایت کی۔ دونوں ملزمان کو دوبارہ 28 اگست کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پولیس کو ڈی این اے رپورٹ کا انتظار
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہوچکی ہے، تاہم حتمی چالان ڈی این اے رپورٹ موصول ہونے کے بعد تیار کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کے ڈی این اے نمونے پہلے ہی حاصل کیے جاچکے ہیں اور ان کے فرانزک ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں۔ تفتیش کار حنا جاوید کی موت کے حالات جاننے کے لیے دیگر فرانزک اور تکنیکی شواہد کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
حنا جاوید باتھ روم سے مردہ ملی تھیں
حنا جاوید رواں ہفتے راولپنڈی کے علاقے لال کرتی میں واقع اپنے گھر کے باتھ روم سے مردہ حالت میں ملی تھیں۔
پولیس کے مطابق ان کے ہاتھ پشت کے پیچھے بندھے ہوئے تھے جبکہ گردن کے گرد تار موجود تھی جو شاور سے منسلک تھی۔ واقعے کے مشتبہ حالات کے باعث پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے ان کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کیا۔
مقدمہ تھانہ سول لائنز میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 اور 34 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
پوسٹ مارٹم میں متعدد زخموں کا انکشاف
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کی گردن کی ہڈی میں فریکچر پایا گیا جبکہ پسلیوں اور کولہے پر بھی زخموں کے نشانات موجود تھے۔
رپورٹ میں دل اور اس کے گرد موجود جھلی میں خون جمع ہونے کا بھی ذکر کیا گیا۔ تاہم ابتدائی طور پر موت کی حتمی وجہ واضح نہیں ہوسکی اور مزید فرانزک تحقیقات کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔
سسر بھی تحقیقات میں شامل
حنا جاوید کے سسر اصغر علی کو بھی پولیس نے تحقیقات میں شریک کیا ہے، تاہم انہیں گرفتار نہیں کیا گیا۔
پولیس کے مطابق سسر نے واقعے کے حالات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ تفتیش کار تمام افراد کے ممکنہ کردار کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ تحقیقات کی روشنی میں حتمی نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔
مقتولہ کے خاندان کے وکیل کا بیان
حنا جاوید کے خاندان کی جانب سے وکیل شاہ خاور عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے بعد انہوں نے کہا کہ پولیس کی تحقیقات درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔
ان کے مطابق پولیس نے شواہد اکٹھے کیے ہیں اور فرانزک کارروائی بھی کی گئی ہے۔ حنا کے بھائی اور دیگر اہل خانہ بھی عدالت میں موجود تھے۔
حنا جاوید کے قتل کے واقعے نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی ہے اور خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔ ویمنز پارلیمانی کاکس نے بھی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کیس کی پیش رفت پر نظر رکھے گا۔
واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف عائد الزامات تاحال زیرِ تفتیش ہیں اور عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
