اسلام آباد کے فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک میں آگ بجھانے کا نظام مکمل طور پر غیر فعال پایا گیا ہے۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند ہفتے قبل ہی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں لگنے والی آگ نے ہسپتالوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔
ایک حالیہ داخلی سیکیورٹی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ہسپتال کے مرکزی فائر ہائیڈرنٹس کچرے سے بند پڑے ہیں، جبکہ سرجیکل وارڈ کے ہنگامی اخراج کے دروازے مستقل طور پر مقفل ہیں۔ یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں، بلکہ ہسپتال میں موجود سینکڑوں مریضوں کی جانوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
اکتوبر میں پمز ہسپتال میں پیش آنے والا المناک واقعہ، جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، حکام کے لیے ایک انتباہ تھا۔ تاہم، اسلام آباد کے دوسرے بڑے سرکاری ہسپتال پولی کلینک کی صورتحال یہ بتاتی ہے کہ ماضی کے حادثات سے کچھ نہیں سیکھا گیا۔
ہسپتال کے ایک سینئر میڈیکل آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ایک بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں۔ آکسیجن سپلائی لائنیں ان بجلی کے پینلز کے ساتھ سے گزر رہی ہیں جن کی 2019 سے سروس نہیں ہوئی۔ اگر ایک چنگاری بھی نکلے تو اسے بجھانے کے لیے کوئی سسٹم موجود نہیں ہے۔”
آڈٹ رپورٹ، جسے وزارتِ صحت کو بھجوا دیا گیا ہے، واضح کرتی ہے کہ راہداریوں میں رکھے گئے آگ بجھانے والے آلات یا تو ایکسپائر ہو چکے ہیں یا ان میں پریشر ختم ہو چکا ہے۔ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں لگے دھوئیں کے الارم بھی منقطع ہیں، جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو خبردار کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
ہسپتال انتظامیہ کا موقف ہے کہ مرمت کے لیے درکار بجٹ کئی ماہ سے بیوروکریسی کی نذر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر مرمت کے لیے ٹھیکیداروں کی خدمات درکار ہیں، لیکن ٹینڈر کا عمل وزارت کی سطح پر تعطل کا شکار ہے۔
ہسپتال کے راہداریوں میں موجود مریضوں کے لواحقین کے لیے یہ عذر کسی کام کے نہیں۔ وزارتِ صحت نے تاحال مرمت کے کام کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔ جب تک حفاظتی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق درست نہیں کیا جاتا، ہسپتال کے اندر موجود ہر شخص کی زندگی داؤ پر لگی رہے گی۔
