نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے ایک اہم قانونی جنگ جیت لی ہے، جس سے قومی خزانے کو کھربوں روپے کے ممکنہ نقصان سے بچا لیا گیا ہے۔ بین الاقوامی ثالثی ٹربیونل نے ایک نجی ٹھیکیدار کی جانب سے دائر کردہ بھاری معاوضے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے، جس سے برسوں سے جاری یہ تنازع اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے۔
یہ تنازع بڑے شاہراہ منصوبوں میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق تھا۔ ٹھیکیدار نے "ناگزیر نقصانات” کے عوض بھاری ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم این ایچ اے کی قانونی ٹیم نے عدالت میں یہ موقف کامیابی سے ثابت کیا کہ منصوبوں میں تاخیر ٹھیکیدار کی اپنی انتظامی نااہلی اور سپلائی چین کے ناقص انتظام کا نتیجہ تھی۔
موجودہ معاشی حالات میں، جہاں حکومت آئی ایم ایف کے سخت پروگراموں اور مالیاتی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، یہ فیصلہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے۔ اگر ٹربیونل کا فیصلہ ٹھیکیدار کے حق میں آتا تو یہ بوجھ این ایچ اے کی نئی سڑکوں کی تعمیر اور موجودہ شاہراہوں کی بحالی کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر سکتا تھا۔
مقدمے کی کارروائی سے واقف ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ "یہ صرف ایک معاہداتی تنازع نہیں تھا، بلکہ یہ عوامی اثاثوں کو بے جا دعووں سے بچانے کی ریاستی صلاحیت کا امتحان تھا۔” نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ این ایچ اے نے مہینوں تک پراجیکٹ لاگز اور سائٹ ڈائریوں کا باریک بینی سے آڈٹ کیا تاکہ ٹھیکیدار کے دعووں کو ٹھوس شواہد کے ساتھ مسترد کیا جا سکے۔
ٹربیونل کا یہ فیصلہ معاہدوں کے سخت انتظامی کنٹرول کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ یہ فیصلہ مستقبل کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے ایک قانونی مثال قائم کرے گا، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ ریاست اب ایسے دعووں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی جن کے پاس تکنیکی اور دستاویزی بنیادیں کمزور ہیں۔
قانونی جنگ تو ختم ہو گئی ہے، لیکن اس کے اثرات این ایچ اے کے لیے فوری نوعیت کے ہیں۔ اتھارٹی اب وہ فنڈز جو ممکنہ قانونی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے تھے، جنوبی صوبوں میں پلوں کی مرمت اور شاہراہوں کی توسیع پر خرچ کر سکے گی۔
ٹھیکیدار کی جانب سے تاحال اپیل کرنے یا نہ کرنے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا، لیکن فی الحال قومی خزانہ اس بھاری نقصان سے محفوظ ہے۔ یہ جیت قومی بجٹ کا ایک اہم حصہ بچانے میں کامیاب رہی، جس سے عوام کو نجی شعبے کی ناکامیوں کا خمیازہ بھگتنے سے بچا لیا گیا ہے۔
