اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید نے وفاقی وزیر احسن اقبال کے ہتکِ عزت کیس میں نچلی عدالت کی جانب سے ڈھائی کروڑ روپے ہرجانے کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
منگل کو دائر کی گئی اپیل میں مراد سعید کے وکلاء نے موقف اختیار کیا ہے کہ سول عدالت کا فیصلہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے اور اس میں ہتکِ عزت کے مقدمات کے لیے ضروری شواہد کو نظر انداز کیا گیا۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب مراد سعید نے ایک ٹی وی پروگرام کے دوران احسن اقبال پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے۔ وفاقی وزیر نے ان بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا، جس میں موقف اپنایا گیا کہ ان الزامات سے ان کی سیاسی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
سول عدالت نے اپنے فیصلے میں مراد سعید کو ڈھائی کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر پی ٹی آئی رہنما کا کہنا ہے کہ یہ رقم سیاسی انتقام کے طور پر مانگی گئی ہے۔ مراد سعید کی جانب سے دائر اپیل میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ سیاسی رہنما عوامی زندگی میں ہونے کے ناطے تنقید کا سامنا کرنے کے پابند ہیں اور ان پر کی جانے والی تنقید کو ہتکِ عزت کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔
پاکستان کی سیاست میں ٹی وی ٹاک شوز کے دوران دیے گئے بیانات پر عدالتوں کا رخ کرنا ایک معمول بن چکا ہے، تاہم ہتکِ عزت کے ایسے مقدمات اکثر طویل عرصے تک اپیلوں میں الجھے رہتے ہیں۔ مراد سعید کے وکلاء کا اصرار ہے کہ یہ بیانات سیاسی احتساب کا حصہ تھے، نہ کہ کسی کی ذاتی کردار کشی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں اب یہ معاملہ زیرِ سماعت ہے کہ آیا نچلی عدالت نے سیاسی بیانات کی حدود اور ہتکِ عزت کے قانون کا درست اطلاق کیا یا نہیں۔ عدالت کی جانب سے اپیل پر سماعت کے لیے تاریخ کا تعین آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔
