انسانی اسمگلنگ کا روایتی تصور اب بدل چکا ہے۔ ماضی میں غربت کے مارے مزدوروں کو جھانسہ دے کر پھنسانے والے گروہ اب پڑھے لکھے، ہنر مند اور پرعزم نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اکاؤنٹنٹس، سافٹ ویئر انجینئرز اور زبانوں کے ماہرین اب ان جدید اسمگلرز کی اولین ترجیح ہیں۔
یہ گروہ اب گلی محلوں میں نہیں، بلکہ لنکڈ اناور ٹیلی گرام جیسے پلیٹ فارمز پر سرگرم ہیں۔ یہ اسمگلرز خود کو بین الاقوامی ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے طور پر پیش کرتے ہیں اور بیرون ملک ملازمت، بھاری تنخواہ اور رہائش کے پرکشش وعدے کرتے ہیں۔ معاشی بدحالی کے شکار کسی بھی نوجوان کے لیے یہ پیشکش کسی "گولڈن ٹکٹ” سے کم نہیں ہوتی۔
پھنسنے کا عمل انتہائی منظم ہے۔ شکار بننے والا شخص جب بیرون ملک پہنچتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ دفتر کی نوکری ایک دھوکہ ہے اور اسے دراصل سائبر کرائم یا فراڈ کے کاموں پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس مرحلے پر ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے ہیں اور انہیں مسلح محافظوں کے پہرے میں رکھا جاتا ہے۔
ماہرینِ جرائم کا کہنا ہے کہ یہ اسمگلرز اب ان لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو تحقیق کرنا جانتے ہیں۔ یہ گروہ اتنی پیشہ ورانہ ویب سائٹس اور جعلی انٹرویو کا اہتمام کرتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ فرد بھی ان کے جال میں پھنس جاتا ہے۔ جب شکار کو حقیقت کا علم ہوتا ہے، تو اسے اپنے ہی ہنر کو دوسروں کو لوٹنے کے لیے استعمال کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ انکار کی صورت میں تشدد، بھوک اور گھر والوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نئے چیلنج کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی گمنامی اور سرحد پار جرائم کی پیچیدگی کی وجہ سے ان نیٹ ورکس کا سراغ لگانا مشکل ہے۔ اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم بارہا خبردار کر چکا ہے، لیکن عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی نے اسمگلرز کے لیے شکار تلاش کرنا آسان بنا دیا ہے۔
ایک پرکشش ای میل سے شروع ہونے والا یہ سفر اکثر ایک دہائی پر محیط غلامی پر ختم ہوتا ہے۔ اسمگلرز اب صرف افرادی قوت نہیں، بلکہ ایسے ذہن تلاش کر رہے ہیں جنہیں وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہتھیار بنا سکیں۔ آج کے دور میں کسی بھی نامعلوم "سنہری موقع” پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنا، اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
