دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تیل کے وسیع و عریض اسٹریٹجک ذخائر اس وقت اپنی گنجائش کے مقابلے میں انتہائی کم سطح پر ہیں۔ 90 ملین بیرل رکھنے کی صلاحیت رکھنے والے ان ٹینکس میں اس وقت صرف 22 ملین بیرل تیل موجود ہے۔ یہ خالی جگہیں محض اعداد و شمار کا فرق نہیں، بلکہ توانائی کی عالمی منڈی میں بدلتے ہوئے رجحانات اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کی ایک کھلی تصویر ہیں۔
کئی دہائیوں تک یہ ذخائر کسی بھی ہنگامی صورتحال میں توانائی کے تحفظ کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ جب قیمتیں گرتی تھیں، ممالک ان ٹینکس کو بھر لیتے تھے، اور جب سپلائی چین متاثر ہوتی، تو یہی ذخائر معیشت کو سہارا دیتے تھے۔ آج یہ حکمت عملی کمزور پڑ چکی ہے۔ صرف تیل خریدنا کافی نہیں، اسے محفوظ رکھنے کے اخراجات، ٹینکس کی دیکھ بھال، اور اس سرمائے پر اٹھنے والا سود اب بہت سے ممالک کے لیے مالی بوجھ بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اس وقت "بیک ورڈیشن” کی صورتحال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل کی موجودہ قیمتیں مستقبل کے سودوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ ایسی صورت میں تاجروں کے لیے تیل کو ذخیرہ کرنے کے بجائے اسے فوری فروخت کرنا زیادہ منافع بخش ہے۔ کوئی بھی اپنی جیب سے سٹوریج کے بھاری اخراجات برداشت کر کے ایسا تیل ذخیرہ نہیں کرنا چاہتا جس کی قیمت مستقبل میں گرنے کا خدشہ ہو۔
توانائی کے شعبے میں اب "جسٹ ان ٹائم” پالیسی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ حکومتیں اور نجی کمپنیاں بڑے ذخائر رکھنے کے بجائے سپلائی چین کی لچک پر بھروسہ کر رہی ہیں۔ یہ ایک خطرناک جوا ہے۔ بحیرہ احمر میں کشیدگی ہو یا آبنائے ہرمز میں رکاوٹ، سپلائی چین میں معمولی سا خلل بھی دنیا کو بحران میں دھکیل سکتا ہے۔ جب ذخائر خالی ہوں، تو قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے منڈی میں تیل چھوڑنے کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
یہ 68 ملین بیرل کی خالی جگہ درحقیقت ایک خاموش خطرہ ہے۔ جب اگلا بڑا سپلائی بحران سر اٹھائے گا، تو یہ خالی ٹینکس صرف ایک بے کار ڈھانچہ ثابت ہوں گے۔ توانائی پالیسی کے ماہرین کے مطابق، دنیا اب جسمانی ذخیرہ اندوزی کے بجائے مالیاتی ہیجنگ کی طرف مائل ہو رہی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کیا ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا دنیا اگلی بڑی رکاوٹ کے وقت ان خالی ٹینکس کے ساتھ توانائی کے تحفظ کو یقینی بنا سکے گی؟
