نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں طوفانی مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ قدرتی آفت کے اس تازہ ترین سلسلے میں اب تک 170 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں تاحال لاپتہ ہیں۔ پہاڑی ندی نالوں نے بپھر کر رہائشی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
نیپال کا دارالحکومت کھٹمنڈو ملک کے دیگر حصوں سے کٹ چکا ہے۔ اہم شاہراہیں، بشمول پرتھوی ہائی وے، مٹی کے تودوں اور ملبے تلے دب گئی ہیں، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کا عمل جاری ہے، لیکن خراب موسم اور مسلسل بارشیں اس مشن میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
تبت کے خود مختار علاقے میں بھی صورتحال سنگین ہے۔ دریاؤں میں پانی کی سطح ریکارڈ بلندیوں پر پہنچنے کے بعد کئی مقامات پر بند ٹوٹ گئے ہیں، جس کے باعث آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ دشوار گزار پہاڑی راستے اور مواصلاتی نظام کی تباہی نے مقامی انتظامیہ کے لیے ریسکیو آپریشن کو ایک امتحان بنا دیا ہے۔
فصلوں کی تباہی نے ان پہاڑی علاقوں میں خوراک کے بحران کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب چکی ہیں، جبکہ بجلی اور ٹیلی فون لائنیں کٹ جانے سے متاثرین کا دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ مون سون کے بدلتے ہوئے پیٹرن نے اس تباہی کی شدت میں اضافہ کیا ہے۔ یہ محض موسمی بارشیں نہیں، بلکہ ایسی شدت ہے جس کے لیے خطے کا بنیادی ڈھانچہ تیار نہیں تھا۔
متاثرہ علاقوں میں ایک مقامی رہائشی نے بتایا، "سیلاب نے چند منٹوں میں ہماری زندگی بھر کی جمع پونجی چھین لی۔ پانی صرف گھروں میں نہیں گھسا، بلکہ اس نے زمین کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔”
زمین کے سیر شدہ ہونے کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بدستور برقرار ہے۔ حکام کے مطابق، بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی نے امدادی کاموں میں مزید تاخیر کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ فی الحال ترجیح صرف جانیں بچانا ہے، لیکن آنے والے دنوں میں بحالی کا عمل ان حکومتوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔
پانی کی سطح میں کمی کے ساتھ ہی تباہی کی اصل وسعت سامنے آ رہی ہے۔ یہ حالیہ برسوں کا بدترین سیلاب ہے، جس نے نیپال اور تبت کے متاثرین کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جس سے نکلنے میں انہیں برسوں لگ سکتے ہیں۔
