ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے وینزویلا کے 65 ارب بیرل تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کا معاہدہ طے کر لیا ہے۔ سابق صدر نے اس بڑے دعوے کے حق میں کسی باضابطہ دستاویز یا معاہدے کا حوالہ نہیں دیا، جس سے سیاسی اور توانائی کے حلقوں میں سوالات نے جنم لیا ہے۔
وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، تاہم برسوں کی بدانتظامی، سرمایہ کاری کے فقدان اور عالمی پابندیوں کے باعث وہاں سے تیل کی پیداوار انتہائی کم سطح پر آ چکی ہے۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ اس معاہدے سے امریکی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی، کیونکہ امریکی شراکت سے وینزویلا کی قومی آئل کمپنی کی پیداواری صلاحیت بحال ہو سکے گی۔
توانائی کے ماہرین اس دعوے کو عملی طور پر مشکل قرار دے رہے ہیں۔ وینزویلا میں تیل نکالنے کا بنیادی ڈھانچہ—پائپ لائنز، ریفائنریز اور ڈرلنگ کا سامان—تباہ حالی کا شکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ایک سیاسی وعدے سے پیداوار شروع نہیں ہو سکتی؛ اس کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور برسوں کا وقت درکار ہوگا۔
دوسری جانب، وینزویلا کی حکومت کی جانب سے اس مبینہ معاہدے کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی تاحال اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
امریکہ کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں یہ ایک غیر معمولی موڑ ہے۔ واشنگٹن برسوں سے کاراکاس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے، اور ٹرمپ کا یہ دعویٰ برسوں پرانی امریکی پالیسی کے بالکل برعکس ہے۔
اگر یہ معاہدہ حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو یہ مغربی نصف کرہ میں توانائی کی سیاست کا سب سے بڑا تزویراتی فیصلہ ہوگا۔ تاہم، فی الحال یہ دعویٰ زمینی حقائق سے زیادہ انتخابی بیانیے کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
