آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ستمبر کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد گھریلو سلنڈر مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ 11.8 کلو گرام والے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 23 روپے 33 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 2 ہزار 367 روپے 66 پیسے مقرر کر دی گئی ہے۔
اس اضافے کے ساتھ ایل پی جی کی فی کلو قیمت 200 روپے 65 پیسے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لیے ایندھن کے اخراجات کو کنٹرول کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایل پی جی پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے لیے یہ اضافہ ماہانہ بجٹ پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔
قیمتوں میں اس ردوبدل کی بنیادی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ ہے۔ پاکستان اپنی ایل پی جی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں ہونے والی معمولی تبدیلی بھی مقامی صارفین کی جیب پر بھاری پڑتی ہے۔
اگرچہ اوگرا نے قیمتوں کا تعین کر دیا ہے، لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ بڑے شہروں میں تو ڈیلرز سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کی کوشش کرتے ہیں، تاہم دور دراز علاقوں میں دکاندار اکثر ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور قلت کا جواز بنا کر من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں۔
حکومتی دعویٰ ہے کہ قیمتوں کا تعین سعودی آرامکو کے کنٹریکٹ پرائس کے فارمولے کے تحت شفاف انداز میں کیا جاتا ہے، لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تسلسل کے ساتھ ہونے والے ان اضافوں نے گھر چلانا مشکل بنا دیا ہے۔
اب نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا ضلعی انتظامیہ اس نئی قیمت پر عمل درآمد یقینی بنا سکے گی یا پھر ہمیشہ کی طرح یہ نوٹیفکیشن صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہے گا۔
