کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام نے جمعرات کو پریڈی اور جیکسن مارکیٹ کے ایس ایچ اوز کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ ان افسران پر سنگین الزامات تھے، جن میں رشوت ستانی، جرائم پیشہ گروہوں سے مبینہ گٹھ جوڑ اور تھانے کی سطح پر ریکارڈ میں ہیر پھیر شامل ہے۔
ان معطلیوں کا فیصلہ سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کو موصول ہونے والی انٹیلی جنس رپورٹس کے بعد کیا گیا۔ ان رپورٹس میں نشاندہی کی گئی تھی کہ دونوں افسران اپنے علاقوں میں سٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنے کے بجائے مبینہ طور پر اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف تھے۔ شہر کے مصروف ترین تجارتی مراکز میں تعینات ان افسران کی مبینہ غفلت نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔
پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "محکمے میں کرپٹ اور غفلت کے مرتکب افسران کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ دونوں ایس ایچ اوز کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کر دی گئی ہے، جس کے نتائج کی روشنی میں ان کے خلاف مزید تادیبی کارروائی کی جائے گی۔”
پریڈی تھانے کے ایس ایچ او پر الزام ہے کہ انہوں نے مقامی تاجروں اور ریڑھی بانوں سے بھتہ وصولی کا ایک باقاعدہ نظام بنا رکھا تھا۔ ذرائع کے مطابق، جو تاجر یہ "پروٹیکشن منی” ادا کرنے سے قاصر تھے، انہیں بلاوجہ ہراساں کیا جاتا تھا، جبکہ جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی تھی۔
دوسری جانب جیکسن مارکیٹ کے ایس ایچ او پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے علاقے میں موبائل چھیننے اور موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں کے اعداد و شمار کو چھپایا۔ تھانے کے ریکارڈ میں جرائم کی شرح کو مصنوعی طور پر کم دکھایا گیا تاکہ اعلیٰ حکام کی نظروں میں کارکردگی بہتر نظر آئے۔ عملی طور پر، گزشتہ تین ماہ کے دوران ان جرائم میں ملوث کسی ایک بھی منظم گروہ کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔
یہ کارروائی کراچی پولیس کی جانب سے اپنے اندرونی نظام کو درست کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم، شہری حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا محض دو افسران کی معطلی سے شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے گی؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تک تھانوں میں سیاسی مداخلت اور افسران کی تعیناتی کا معیار درست نہیں ہوتا، ایسے اقدامات صرف وقتی دکھاوا ثابت ہوں گے۔
فی الحال دونوں افسران کو معطل کر کے ان کے عہدوں پر نئے افسران تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان نئے افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر زیر التواء شکایات کو نمٹائیں اور اپنے علاقوں میں جرائم کی روک تھام کے لیے ٹھوس لائحہ عمل تیار کریں۔
