لاہور کے مصروف ترین فیروز پور روڈ پر منگل کے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ٹریفک وارڈن کے ساتھ مبینہ تلخ کلامی اور دھکے کے بعد ایک موٹر سائیکل سوار دم توڑ گیا۔ 45 سالہ محمد اسلم کی موت نے علاقے میں شدید اشتعال پیدا کر دیا ہے۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹریفک وارڈن نے مبینہ طور پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر موٹر سائیکل سوار کو روکا۔ عینی شاہدین کے مطابق، معمولی بحث نے جلد ہی ہاتھا پائی کی شکل اختیار کر لی۔ اس دوران وارڈن نے مبینہ طور پر اسلم کو دھکا دیا، جس کے نتیجے میں وہ سڑک پر گر کر شدید زخمی ہو گئے۔ سر پر گہری چوٹ لگنے کے باعث انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
اس واقعے کی خبر پھیلتے ہی مشتعل افراد کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی اور فیروز پور روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ذمہ دار اہلکار کے خلاف فوری مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کیا جائے۔ مشتعل ہجوم کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کے ساتھ بدتمیزی اور طاقت کا بے جا استعمال معمول بن چکا ہے۔
دباؤ بڑھنے پر چیف ٹریفک آفیسر لاہور نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ وارڈن کو معطل کر دیا ہے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق، واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور مقتول کے لواحقین کی مدعیت میں متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ابتدائی طبی رپورٹ میں سر پر لگنے والی چوٹ کو موت کی وجہ قرار دیا گیا ہے، تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی قانونی کارروائی کا اگلا مرحلہ طے پائے گا۔ جائے وقوعہ کے قریب موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو بھی شواہد کے طور پر قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
مقتول کے بھائی نے ہسپتال کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "محکمے کی تحقیقات محض وقت گزارنے کا حربہ ہیں۔ ہمیں انصاف چاہیے، نہ کہ رسمی کارروائی۔”
یہ واقعہ ایک بار پھر پنجاب میں ٹریفک پولیس کے رویے اور شہریوں کے ساتھ پیش آنے کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان کھڑا کر گیا ہے۔ اب جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، شہر بھر میں ٹریفک وارڈنز کے لیے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
