پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے وفاقی دارالحکومت کے مجوزہ لوکل گورنمنٹ بل کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت نے اس بل کو شہری خودمختاری کے منافی قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس کے خلاف ووٹ دینے کا عندیہ دیا ہے۔
یہ فیصلہ حکمران اتحاد کے اندر موجود کشیدگی کو مزید بڑھاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت دارالحکومت میں اختیارات کو مرکزی سطح پر مرکوز کرنا چاہتی ہے، جو کہ مقامی حکومتوں کے تصور کے براہِ راست خلاف ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے بلدیاتی نظام کو بیوروکریسی کے تابع کرنا عوامی نمائندوں کے اختیارات کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔
پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم ایسی قانون سازی کی حمایت نہیں کر سکتے جو نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے بجائے انہیں مرکز میں سمیٹ دے۔” ان کے مطابق پارٹی نے اپنا اصولی موقف قیادت کو پہنچا دیا ہے اور اب اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
تنازع کی بڑی وجہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے اختیارات ہیں۔ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ شہر کے انتظامی اور مالیاتی امور پر وفاقی کابینہ کی بالادستی برقرار رہے، جبکہ پیپلز پارٹی کا اصرار ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی روح کے مطابق بلدیاتی اداروں کو خود مختار ہونا چاہیے۔
وفاقی حکومت کے لیے یہ مخالفت ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ قومی اسمبلی میں اس بل کی منظوری کے لیے پی پی پی کا ساتھ ناگزیر تھا، اور اب ان کی مخالفت کے بعد حکومت کو یا تو بل میں ترامیم کرنا پڑیں گی یا پھر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے مدد مانگنا پڑے گی، جو سیاسی اعتبار سے حکومت کے لیے ایک مشکل راستہ ہے۔
اگر یہ بل پارلیمنٹ سے منظور نہ ہو سکا تو اسلام آباد کا بلدیاتی نظام ایک بار پھر قانونی تعطل کا شکار ہو جائے گا۔ اس سیاسی کھینچا تانی کا براہِ راست نقصان شہر کے رہائشیوں کو ہو رہا ہے، جو برسوں سے پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے ناقص نظام سے نالاں ہیں۔
پیپلز پارٹی کا یہ فیصلہ آنے والے پارلیمانی سیشن میں حکومتی اتحاد کے اتحاد کی مضبوطی کا امتحان لے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنے اتحادی کو منانے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر دارالحکومت کے بلدیاتی مستقبل کا فیصلہ مزید ملتوی کر دیا جاتا ہے۔
