ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹیاں اب محفوظ نہیں رہیں۔ نیپال اور تبت کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے نہ صرف برف کی یہ عظیم تہہ سکڑ رہی ہے بلکہ پہاڑوں کے درمیان پانی کے غیر مستحکم ذخائر بھی بن رہے ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ کر نیچے آباد بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق، گلیشیئرز کے پگھلنے سے بننے والی یہ جھیلیں قدرتی بندوں کے سہارے کھڑی ہیں جو پتھروں اور ملبے سے بنے ہیں۔ جب یہ بند ٹوٹتے ہیں، تو لاکھوں کیوبک میٹر پانی، مٹی اور بھاری پتھروں کا ایک سیلابی ریلا چند منٹوں میں نشیبی علاقوں میں تباہی مچا دیتا ہے۔ اس خطرے کو "گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈز” کہا جاتا ہے، اور اب ان کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
اس تباہی کا ایک بڑا محرک ‘بلیک کاربن’ ہے۔ جنوبی ایشیا میں فصلوں کی کٹائی کے بعد جلائی جانے والی باقیات اور صنعتی دھوئیں سے پیدا ہونے والی کالی راکھ فضا میں بلند ہو کر ہمالیہ اور تبت کے سفید برفانی میدانوں پر جم رہی ہے۔ یہ سیاہ تہہ سورج کی روشنی کو جذب کر کے برف کے پگھلنے کی رفتار کو درجہ حرارت میں اضافے سے کہیں زیادہ تیز کر دیتی ہے۔
ماہرِ ہائیڈرولوجی ڈاکٹر سونم وانگیال، جو برسوں سے دودھ کوشی بیسن کی نگرانی کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ "یہ منظرنامہ لمحہ بہ لمحہ بدل رہا ہے۔ یہ صرف سمندر کی سطح بلند ہونے کی بات نہیں، یہ ایک ایسی دیوارِ آب ہے جو چند منٹوں میں کسی پورے گاؤں کو بہا لے جانے کی طاقت رکھتی ہے۔”
اس کے اثرات اب زمینی سطح پر نمایاں ہیں۔ نیپال کے علاقے سولو-کھمبو میں رہنے والے لوگ غیر متوقع مون سون بارشوں اور گلیشیئرز کے غیر مستحکم بہاؤ کی وجہ سے مستقل خوف کے سائے میں ہیں۔ دریاؤں کے کنارے بنے سکول، پل اور بجلی گھر — جنہیں کبھی محفوظ سمجھا جاتا تھا — اب سیلابی راستوں کی زد میں ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے لیے چیلنج دوہرا ہے۔ بلند پہاڑی علاقوں میں کنکریٹ کے مضبوط ڈیم بنانا نہ صرف انتہائی مہنگا ہے بلکہ جغرافیائی اعتبار سے بھی ایک کٹھن کام ہے۔ خبردار کرنے والے جدید نظام بھی اکثر انہی تودوں کی نذر ہو جاتے ہیں جنہیں پیشگی مطلع کرنے کے لیے نصب کیا جاتا ہے۔
ان پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے ہزاروں افراد کے لیے یہ اب کوئی ماحولیاتی ماڈل نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ جیسے جیسے گلیشیئرز پتلے ہو رہے ہیں، پہاڑ برف کے بجائے پانی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ نیچے بسنے والوں کے لیے سوال یہ نہیں کہ تباہی آئے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب آئے گی۔
