حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 35 پیسے فی لیٹر اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی نئے نرخوں کا اطلاق فوری طور پر ہو گیا ہے۔
اس اضافے کے ساتھ ہی پیٹرول کی فی لیٹر قیمت ایک بار پھر عوام کی قوت خرید سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے کا اثر صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
وزارتِ خزانہ کا موقف ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث یہ اضافہ ناگزیر تھا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین فارمولے کے تحت کیا جاتا ہے تاکہ ملکی معیشت پر بوجھ کم ہو، تاہم عام شہری اس دلیل سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔
راولپنڈی کے ایک ٹرانسپورٹر نے صورتحال پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہر پندرہ دن بعد قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔ اب ہمارے لیے کرایوں میں اضافہ کیے بغیر گاڑی چلانا ممکن نہیں رہا۔” ان کا کہنا ہے کہ فریٹ چارجز بڑھنے سے سبزیوں اور راشن کی ترسیل مہنگی ہو گی، جس کا حتمی بوجھ عام گاہک کی جیب پر پڑے گا۔
معاشی ماہرین کے مطابق، یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں مہنگائی کی شرح پہلے ہی بلند سطح پر ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے چھوٹی صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری طبقہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
حکومت کی جانب سے قیمتوں کے اس جائزے کے بعد اب نظریں آئندہ پندرہ روزہ نظرثانی پر مرکوز ہیں۔ جب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، تب تک صارفین کو اسی طرح کی "قیمتی حیرانیوں” کا سامنا رہے گا۔
حکومتی دعوے اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے ساتھ ماہانہ بجٹ برقرار رکھنا ایک ناممکن چیلنج بن چکا ہے۔
